ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی
ایران کا حوثی کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا اعتراف، مزید اسلحہ نہ دینے کا عہد
بدھ کے روز ایران نے امن عمل کی حمایت کرتے ہوئے یمن میں تنازع کو ختم کرنے میں مدد کے لیے امریکا کی اپیل کاخیر مقدم کیا ہے۔
تہران نے یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹموتھی لینڈرکنگ کے بیانات کو تسلی بخش قرار دیا۔
لینڈرکنگ نے منگل کو کہا تھا کہ واشنگٹن چاہے گا کہ "ایرانیوں کو سیاسی عمل کے لیے اپنی حمایت دیکھانا چاہیے۔ ہمیں امید ہے کہ ایران یمن میں جاری سیاسی حل کے لیےکی جانے والی کوششوں میں تعاون کرے گا"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ایرانی واقعی یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تنازع میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں، تو پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ نہیں ہو گی۔"
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نےکل بدھ کو کہا تھا کہ تہران نے "یمن میں جنگ کے پہلے دن سے امن عمل" کی حمایت کی ہے۔
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے گذشتہ اتوار کو کہا تھا کہ 2 اپریل 2022 کو اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی ایک "امید کا لمحہ" ہے۔
گرنڈبرگ نے ایک بیان میں کہا کہ "جنگ بندی کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ یہ ایک جامع سیاسی عمل شروع کرنے کے موقع کو تقویت دیتا ہے جس کا مقصد تنازع کو ایک جامع اور پائیدار طریقے سے ختم کرنا ہے۔"
اسی بارے میں
-
سعودی عرب سے معاہدے کے تحت ایران حوثی باغیوں کواسلحہ کی ترسیل بند کردے گا:رپورٹ -
یمن جنگ پر سعودی ایران معاہدے کا کوئی اثر نہیں، ہم تہران کے ماتحت نہیں ہیں: حوثی -
ایران حوثی ملیشیا کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے میزائل اسمگل کر رہا ہے: برطانیہ -
امریکا کایمنی حوثیوں کے لیے بھیجا گیا ایران کا ضبط شدہ اسلحہ یوکرین کوبھیجنے پرغور -
دو ماہ میں حوثیوں کو ایرانی اسلحے کی سمگلنگ کی 4 کارروائیاں ناکام بنائیں : امریکہ