مصری سرحد پر سکیورٹی واقعے کے بعد ایمبولینس جبل حریف فوجی بیس کے قریب کھڑی ہے: اے ایف پی
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز مصر اور اسرائیل کی سرحد پر پیش آنے والے سکیورٹی واقعے میں ہلاک ہونے والے مصری فوجی کی لاش قاہرہ کے حوالے کر دی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے کے مطابق "22 سالہ مصری ملٹری سکیورٹی اہلکار، جس کی شناخت نام محمد صلاح ابراہیم کے نام سے کی گئی تھی، کی لاش واپس کر دی گئی ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر ابھی تک مصری حکام نے اس کی لاش کی وصولی کی تصدیق نہیں کی۔
ہفتے کے روز مصر نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر تعینات ایک سکیورٹی اہلکار نے حفاظتی باڑ توڑنے کے بعد فائرنگ کر کے تین اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی جوابی فائرنگ سے مصری اہلکار بھی مارا گیا تھا۔
مصر کی مسلح افواج کے ترجمان کرنل غریب عبدالحافظ نے فیس بک پر بیان میں کہا ’’کہ اسرائیل کے ساتھ سرحد پر کارروائی ہفتے کی صبح منشیات کی سمگلنگ کرنے والے عناصر کے تعاقب کے دوران ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے علاقے کی تلاشی لی جا رہی ہے اور معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی واقعے کے حوالے سے قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اتوار کے روز ہزاروں اسرائیلیوں نے ان تین اسرائیلی فوجیوں کی آخری رسومات میں شرکت کی جو مصر کی سرحد پر مارے گئے تھے۔ اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس نایاب اور سنگین واقعے کے حالات کی "گہرائی سے تحقیقات" کرے گا، جب کہ مصری حکام نے اس سلسلے میں اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغاز میں تصدیق کی کہ اس واقعے کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔ انہوں نے اسے ’’خطرناک‘‘ اور ’’غیر معمولی‘‘ پیش رفت قرار دیا۔
اسی بارے میں
-
مصر اور اسرائیل کے درمیان باڑ میں خلا کی تصویر، کیا مصری فوجی نے یہاں سے دراندازی کی؟ -
تین اسرائیلی فوجیوں کو قتل کرنے والا مصری فوجی کون ہے؟ -
مصر، اسرائیل سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ،تین صہیونی فوجی اورایک مصری محافظ ہلاک -
مصر اور اسرائیل کے درمیان "سرحدی جھڑپ" کے بعد سکیورٹی الرٹ -
سرحدی جھڑپ کے بعد مصر اور اسرائیل کے وزرائے دفاع کے درمیان فون پر بات چیت