دارالحکومت طرابلس سے

لیبیا میں سمندری لہروں کی وجہ سے خوف و ہراس، ہوٹل خالی کروا لیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سمندری طوفان ڈینیل کے اثرات کی متوقع آمد کی تیاری میں لیبیا میں گذشتہ گھنٹوں کے دوران مکمل الرٹ دیکھا گیا ہے۔

ملک کی 3 بڑی بندرگاہوں کو 3 دن تک بند رکھنے کے بعد مسلح افواج اور ایمرجنسی حکام نے ساحلوں کے قریب واقع متعدد ہوٹلوں کو خالی کرا لیا ہے۔

ان ہوٹلوں میں بن غازی بیچ پر واقع گالیانا ہوٹل کو گاہکوں سے خالی کر دیا گیا تھا۔ اتوار کو سمندر کی اونچی لہروں اور تیز ہواؤں کی وارننگ کے بعد اس کے مہمانوں کو دوسرے ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیجز میں لیبیا کے ساحلی علاقوں کی سڑکوں پر پانی بہتے دیکھا جا سکتا ہے۔

لیبیا میں عوامی حلقوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر تیز ہواؤں کے خوفناک مناظر بھی شیئر کیے جا رہے ہیں۔ متعدد محلوں میں بجلی کے ٹرانسفارمرز میں "بجلی کے شارٹ سرکٹ" کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

حکام نے ملک کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں سمندری طوفان کی وجہ سے ہائی الرٹ کیا ہے۔

لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے افواج پوری طرح چوکس ہیں۔

جبکہ متحدہ حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے وزراء اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ آنے والے دنوں میں متوقع موسم کے نتیجے میں آنے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے "ریپڈ ریسپانس ٹیمیں تشکیل دیں"۔

بن غازی کی میونسپلٹی نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور انتہائی ضرورت کے علاوہ گھروں سے نہ نکلیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں