5 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں تلکرم کے قریب اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران احتجاج کرنے والا ایک فلسطینی آنسو گیس کے کنستر کو لات مار رہا ہے۔ (رائٹرز)
فلسطینی حکام نے بتایا کہ جمعہ کے روز اسرائیلی آباد کاروں کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں ایک 19 سالہ فلسطینی ہلاک ہو گیا۔ آبادکار ایک اسرائیلی خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے حوارا میں جمع ہو گئے تھے۔
البتہ اس معاملے پر اختلاف ہے کہ آیا مقتول کو اسرائیلی آباد کار نے گولی ماری تھی یا فوجیوں نے۔
سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آباد کاروں کے ایک گروپ نے قصبے میں گھس کر گھروں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا۔ آبادکاروں میں سے ایک نے 19 سالہ نوجوان کو گولی مار دی جو ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ درجنوں آباد کاروں اور قصبے کے لوگوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔ ایک فلسطینی نے فوجیوں پر اینٹ پھینکی اور انہوں نے جوابی فائرنگ کی۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ "گولی کا نشانہ بننے والے ایک شخص کی شناخت ہو گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک شخص فوجیوں کی گولی سے مارا گیا۔ بیان میں فرد کی شناخت نہیں بتائی گئی۔
ایک ترجمان نے کہا کہ فوج کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ تصادم کے دوران ایک آباد کار نے ہتھیار سے فائر کیا تھا۔
جمعرات کو ایک مشتبہ مسلح فلسطینی نے حوارہ میں ایک اسرائیلی گاڑی پر گولی چلا دی جس میں ایک اسرائیلی خاندان کے تین افراد سوار تھے۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس کا سراغ لگا کر اسے ہلاک کر دیا۔ خاندان کو نقصان نہیں پہنچا۔
یہ واقعہ الگ الگ جھڑپوں میں دو فلسطینی مسلح افراد اور پانچ اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔
جہاں فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، ان خطوں میں سے ایک مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکہ کی سرپرستی میں قیامِ امن کی کوششوں میں تقریباً ایک عشرے سے تعطل جاری ہے۔
آباد کاروں کی طرف سے انتقامی حملوں کے بعد حوارا میں اسرائیلیوں پر متعدد بار حملوں کا منظر دیکھنے میں آیا ہے۔