ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان

فلسطین اسرائیل تنازع

ایران کی اسرائیل کو غزہ جنگ میں مداخلت کی دھمکی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ’ایکسیئس‘ نیوز ویب سائٹ نے ہفتے کے روز دو سفارتی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کے ذریعے ایک خط میں اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں فوجی کارروائی جاری رہی تو وہ مداخلت کرے گا۔

"سرخ لکیریں"

ذرائع نے مزید کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان نے تصدیق کی کہ ایران کے پاس سرخ لکیریں ہیں اور انہوں نے وضاحت کی کہ اگر فوجی آپریشن جاری رہتا ہے خاص طور پر غزہ پر زمینی حملہ ہوتا ہے تو وہ مداخلت کرے گا۔

علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ نے ہفتے کی شام دوحا میں حماس کے رہ نما اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی۔

"کل بہت دیر ہو جائے گی"

امیر عبداللہیان نے اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے امن مندوب ٹور وینس لینڈ سے ملاقات کے دوران کہا کہ "آج سیاسی حل کا موقع ہے اور کل بہت دیر ہو جائے گی"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نہیں چاہتا کہ تنازعہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہو اور وہ غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی میں مدد کرنا چاہتا ہے۔

"کچھ بھی ممکن ہے"

جمعرات کی رات دیر گئے بیروت کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے عندیہ دیا کہ غزہ میں جنگی جرائم جاری رہنے کی وجہ سے خطے میں تمام امکانات موجود ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے گذشتہ منگل کو کہا تھا کہ ان کے ملک کے پاس حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف شروع کیے گئے اچانک اور وسیع حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے نشاندہی کی کہ تہران برسوں سے حماس کی حمایت کر رہا ہے جس نے زمینی، سمندری اور فضائی راستے سے اسرائیل پر مربوط حملے کیے ہیں۔

تاہم آسٹن نے ایک امریکی فوجی طیارے میں صحافیوں کو دیے گئے بیانات میں نشاندہی کی کہ "اس خاص معاملے میں ہمارے پاس اس حملے کی منصوبہ بندی یا اس کو انجام دینے میں براہ راست ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے"۔

"ڈیٹا بدل سکتا ہے"

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اسی تشخیص کا نتیجہ اخذ کیا لیکن نشاندہی کی کہ یہ اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے صحافیوں کو ایک بیان میں کہا کہ ’’ان معاملات میں ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ اس حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم آنے والے دنوں اور ہفتوں میں اضافی انٹیلی جنس پر نظر ڈالیں گے۔ تاکہ اس بات کا پتا چلایا جا سکے کہ آیا حماس کے اسرائیل پر حملے میں ایران کا کوئی کردار ہے یا نہیں؟۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں