شام کے گولان پر قبضے کے لیے اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی تصویر
سنہ 1967ء میں کشیدگی عرب اسرائیل جنگ پر ختم ہوئی
5 جون 1967 کو اسرائیل نے مصری سرزمین پر اچانک حملہ کیا، جس کے دوران وہ مصری فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ جنگ چھ روزہ جنگ 10 جون 1967 تک جاری رہی۔
اسرائیلی فوج نے پہلے ہی دن مصری ہوائی اڈوں پر بمباری کی اور مصری فضائیہ کے طیاروں کا ایک خاص حصہ تباہ کر دیا۔ اس طرح صہیونی فوج نے پہلے ہی مرحلے میں فضائی برتری حاصل کر لی۔
اسرائیلیوں نے مصری اور شامی سرزمینوں کے خلاف بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کی اور بہت ہی کم وقت میں وہ سینا اور گولان کی سرزمین پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
جمال عبدالناصر مصری فوج میں اپنے کئی ساتھیوں کے ہمراہ
اسرائیل مصر کشیدگی میں اضافہ
چھ روزہ جنگ سے پہلے اس علاقے میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ مئی 1967 کے وسط میں مصری صدر جمال عبدالناصر کو سوویت انٹیلی جنس رپورٹ موصول ہوئی کہ اسرائیل شام کی سرحد پر اپنی افواج کی بڑی تعداد کو جمع کر رہا ہے۔
اس صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے جمال عبدالناصر نے شام پر فوری حملہ کرنے کے لیے اسرائیل کی تیاری کا ذکر کیا۔ اسی دوران مصری صدر نے اپنی افواج کو سیناء کی طرف پیش قدمی کرنے اور جنگ کی تیاری کا حکم دےدیا۔
مصر نے کسی بھی ممکنہ اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کی تیاری کے لیے اسرائیل کے ساتھ سرحد پر اپنی افواج کی بڑی تعداد جمع کرلی۔
دوسری جانب جمال عبدالناصر نے اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اسرائیل کی سرحد پر واقع صحرائے سینا میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج کو علاقے سے نکل جانے کا حکم دیا۔
مصری صدر جمال عبدالناصر کی تصویر
23 مئی 1967ء تک جمال عبدالناصر نے آبنائے تیران کو اسرائیلی جہازوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا۔ اس کی وجہ سے اسرائیل اپنے 90 فیصد تیل کے مساوی ذخائر سے محروم ہو گیا۔ اس طرح وہ ایک غیر مسبوق اقتصادی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں اسرائیلی حکام نے مصری فریق کے ساتھ جنگ کے ناگزیر ہونے کی باتیں شروع کردیں۔
جنگ کا آپشن
اقوام متحدہ کی افواج کے انخلاء کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیلی فوجی ماہرین نے یمن میں مصری افواج کی بڑی تعداد کی موجودگی اور شمالی یمن کی خانہ جنگی میں ان کی شرکت کی وجہ سے یہ تاثر دیا کہ قاہرہ جنگ میں داخل ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔
دوسری طرف جمال عبدالناصر نے تمام مصری افواج کو یمن سے نکالنے اور انہیں سینائی منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تو اسرائیلیوں کو خدشہ تھا کہ مصری صدر ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔
نکیتا خروشیف جمال عبدالناصر کے ساتھ
ایسی صورت حال میں اسرائیل نے فوجی خدمات کے قابل تمام افراد کو طلب کیا۔ ملک بھر میں نقل وحرکت کی وجہ سے ملک کی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی۔
27 مئی 1967ء کو مصر نے آخری لمحات میں اسرائیل کے خلاف اچانک حملے کا منصوبہ منسوخ کر دیا۔ تین دن بعد قاہرہ نے اردن کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت مصر اس قابل ہوگیا کہ وہ عراقی فوج کو اسرائیل کی سرحد کےقریب لا سکے۔
جیسے جیسے خطے میں کشیدگی بڑھی، ماسکو نے جمال عبدالناصر کی تحریکوں کی حمایت کی۔ اس وقت امریکیوں نے اسرائیلیوں کی حمایت کی اور تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوجی آپشن سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔