امریکی صدر جوبائیڈن

امریکی صدر کا اسرائیل اور حماس کے درمیان جھڑپوں میں ’توقف‘ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم ’حماس‘کے درمیان جھڑپوں میں توقف کا مطالبہ کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق منیاپولس میں جو بائیڈن فنڈ ریزنگ کی ایک تقریب میں بدھ کو تقریباً 200 لوگوں سے بات کر رہے تھے جب ایک شخص نے چیخ کر کہا: ’ایک یہودی ربی کی حیثیت سے میں چاہتا ہوں کہ آپ ابھی جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔‘

اس پر جو بائیڈن نے جواب دیا کہ ’میرے خیال میں ہمیں ایک وقفے کی ضرورت ہے۔ وقفے کا مطلب ہے قیدیوں کو باہر نکالنے کے لیے وقت لینا۔‘

Your browser doesn’t support HTML5 video

وائٹ ہاؤس نے پہلے کہا تھا کہ وہ غزہ تک امداد کی ترسیل اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تنازعے میں وقفے‘کی حمایت کرتے ہیں۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ جو بائیڈن کے اس بیان میں قیدیوں سے مراد حماس کے زیرِحراست مغوی ہیں۔

صدر بائیڈن بھر طریقے سے اسرائیلی موقف کی حمایت کرتے رہے ہیں جنہوں نے گذشتہ ماہ تل ابیب کا دورہ کیا تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں انہوں نے اپنا ردعمل تبدیل کر دیا ہے کیونکہ غزہ میں انسانی صورت حال ابتر ہو گئی ہے اور شہریوں کی اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں