حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ
لبنان کی مزاحمتی اور سیاسی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے جمعرات کو اسرائیل کی سرحد کے ساتھ 19 اسرائیلی ٹھکانوں پر ایک ساتھ حملہ کیا جبکہ جواب میں تل ابیب نے کہا ہے کہ اس نے "وسیع" فوجی کارروائی کی۔
حزب اللہ کا یہ حملہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جاری جنگ پر ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے رہنما حسن نصراللہ کی تقریر سے ایک روز قبل کیا گیا۔
غزہ میں جنگ کے شروع ہونے کے بعد حزب اللہ کے سربراہ پہلی بار جمعہ کو خطاب کرنے والے ہیں۔
فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے سات اکتوبر کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر اسرائیلی فوج اور حماس کی اتحادی حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے علاقائی انتشار کا خدشہ ہے۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ سرحدی علاقے پر اسرائیلی بمباری میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں جب کہ حزب اللہ نے اپنے ایک اور جنگجو کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
حزب اللہ نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے جمعرات کی سہ پہر 3:30 بجے ایک ساتھ 19 "صہیونی فوجی ٹھکانوں پر" گائیڈڈ میزائلوں اور توپ خانے کے گولوں سے حملہ کیا۔
گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب حزب اللہ نے شیبا فارمز کے متنازعہ علاقے میں اسرائیلی بیرکس پر ایک ڈرون حملہ کیا۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس حملے کے جواب میں اس نے گروپ کو "وسیع حملے" کا نشانہ بنایا، جس میں اسرائیلی جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔