جمعرات کو غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جاری لڑائی روکنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود فوری جنگ بندی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
تازہ ترین پیش رفت میں العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے سدیروت اور غزہ کے آس پاس کے قصبوں کی طرف راکٹ داغنے کی اطلاع دی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ بندرگاہ کا کنٹرول تقریبا مکمل طور پرحاصل کرلیا ہے۔ حماس اس بندرگاہ کو ’دہشت گردی‘ کے مقاصد کے لیے استعمال کررہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ المرسی کے علاقے کی تمام عمارتوں کو کلیئر کیا جا رہا ہے اور اس آپریشن میں تمام فورسز حصہ لے رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج نے غزہ میں بندرگاہ کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور علاقے کی تمام عمارتوں کو "کلیئر" کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز دس عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے اور بندرگاہ کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ترجمان نے علاقے میں یادگار کی تباہی کی تصویر پوسٹ کی۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تقریباً دس سرنگوں کی گزرگاہیں اور چار عمارتیں تباہ ہو گئیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کی افواج نے "تقریباً دس سرنگوں اور چار عمارتوں کو تباہ کر دیا جو دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچےکا حصہ تھیں۔
انہوں نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ اس بندرگاہ کو "دہشت گردی کے مقاصد اور بحری افواج کے لیے تربیتی سہولت کے طور پر استعمال کر رہی تھی‘‘۔
دوسری طرف اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مشرقی علاقوں پر رات کے وقت پمفلٹ گرائےہیں جن میں خان یونس کے مشرق میں رہنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوجی کارروائی سے قبل فوری طور پر علاقہ خالی کریں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسی طرح کے کتابچے تقریباً دو ہفتے قبل گرائے گئے تھے لیکن اس بار ان کے بعد مشرقی محلوں پر اسرائیلی ٹینکوں کی شدید بمباری کی گئی۔
شمال سے بے گھر ہونے والے دسیوں ہزار لوگ پہلے ہی اسکولوں اور خیموں میں پناہ لے چکے ہیں۔