ایک مظاہرین نیتن یاہو کے بیٹے کے کارٹون کے ساتھ تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں (ایسوسی ایٹڈ پریس)
نیتن یاہو کے بیٹے نے انسٹا گرام پر متنازع تبصرے سےایک بارپھر غصے کی آگ بھڑکا دی
امریکی شہر میامی میں اسرائیل کی سڑک کے بیچوں بیچ آرام کرتے ہوئے ایک تصویر پوسٹ کرکے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے بیٹے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تنازع کو جنم دیا ہے۔ اسرائیلی شہری پہلے ہی یہ سوال کر رہےہیں کہ آیا حماس کےخلاف جنگ میں وزیراعظم کا بیٹا کیوں بیرون ملک سیر سپاٹے میں مصروف ہے۔
یائر نیتن یاھو نے غزہ پر جنگ کے بارے میں ٹیلیگرام ایپلی کیشن پر اپنے اکاؤنٹ پر تبصروں کا ایک سلسلہ شائع کیا جو 7 اکتوبر کو شروع ہوئی تھی۔ ان کے تبصروں نےایک نئےتنازع کا ایک طوفان کھڑا ہوا تھا۔
انہوں نے فوج، داخلی سلامتی کی ایجنسی (شن بیٹ) اور اسرائیل کی سپریم کورٹ کو ان ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جن کی وجہ سے گذشتہ اکتوبر میں حماس کے حملے کا آغاز ہوا۔
ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق 32 سالہ یائر نیتن یاھو نے نٹیلی گرام پر پوسٹ کردہ سیاسی فورم "کوہلیٹ" پر ایک وکیل کی ایک ویڈیو شائع کی۔ اس نے مزید کہا کہ سات اکتوبر سے قبل عدالتی اصلاحات کے خلاف ہونے والے احتجاج نے ملک کے سکیورٹی اداروں کی ناکامی کی بنیاد رکھی جس سے فائدہ اٹھا کر حماس نےسات اکتوبر کواسرائیل پرحملہ کیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
وارننگ نظرانداز کرنے کا الزام
یائر نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر پوسٹ کردہا یک بیان میں کہا کہ غزہ کی سرحد پر حماس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے فوجیوں کی جانب سے اچانک حملے سے کئی ماہ قبل کی وارننگ کے بارے میں بات کی گئی تھی لیکن فوجی کمانڈروں نے اسے نظر انداز کر دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے بیٹے یائر نیتن یاہو کے ہمراہ
اس نے میڈیا اور صحافیوں پر تنقید کی جو سیاسی سوالات پوچھتے ہیں اور اس سنگین حالات میں رائے شماری کراتے ہیں۔ وہ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کا حوالہ دیے رہے تھے جس میں ان کے والد کی مقبولیت میں کمی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
یائر اس سال کے شروع میں میامی میں منتقل ہوگئے تھے لیکن اپنے ملک میں جنگ شروع ہونے کے باوجود ان کے امریکا میں قیام نے اسرائیلیوں میں بے اطمینانی اور غم وغصے کی وسیع لہر کو جنم دیا۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کو گزشتہ ماہ کے آخر میں حماس کے اچانک حملے کا اندازہ لگانے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔