حماس کے زیر حراست قیدیوں کی بازیابی کا عمل جمعرات سے شروع ہوگا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے بدھ کے روز آرمی ریڈیو کو بتایا کہ اسرائیل کو توقع ہے کہ وہ کل جمعرات کو غیر ملکی ثالثی کے معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی سے حماس کے آزاد کرائے گئے قیدیوں کو بازیاب کرائے گا۔

ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے اس رپورٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی بازیابی کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے شروع ہو جائے گا۔

یہ بات اسرائیلی کابینہ کی جانب سے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے تباہ کن جنگ عارضی طور پر رک جائے گی۔

اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ معاہدے کے وسیع خاکہ کے تحت حماس تقریباً 240 قیدیوں میں سے کم از کم 50 کو رہا کرے گی جنہیں 7 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت چار دن تک غزہ میں جنگ بند رہے گی اور غزہ میں روزانہ امدادی سامان اور ایندھن سے لدے تین سو ٹرکوں کوداخل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کی صبح کابینہ کی ووٹنگ سے قبل کہا کہ جنگ جاری رہے گی چاہے کوئی معاہدہ طے پا جائے۔

اسرائیلی وزارت انصاف کی جانب سے معاہدے میں توسیع کی صورت میں 300 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ڈیڑھ سو قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں