عراقی حزب اللہ بریگیڈز کا امریکی بمباری میں اپنے 8 جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرگرم ایران کے وفادار مسلح گروپ اور الحشد الشعبی سے منسلک کتائب حزب اللہ نے آج بدھ کے روز بتایا ہے کہ امریکی فضائی حملے میں اس کے آٹھ جنگجو مارے گئے ہیں۔

گروپ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ 'آج صبح فجر کے وقت پی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر پر امریکی بمباری کی گئی جس میں آٹھ افراد شہید ہوئے تھے۔ کتائب حزب اللہ نے امریکی فوج کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔

دوسری طرف عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حملہ عراق میں داعش مخالف اتحاد کے مشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔

امریکی فوج نے کہا کہ بدھ کی صبح امریکا نے عراق میں دو تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "امریکی سینٹرل کمانڈ فورسز نے عراق میں دو تنصیبات پر الگ الگ اور گائیڈڈ حملے کیے ہیں"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "حملے ایران اور ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی طرف سے امریکی اور اتحادی افواج پر حملوں کا براہ راست جواب تھے"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

قبل ازیں منگل کو عراقی السامریہ چینل نے کہا تھا کہ پاپولر موبلائزیشن فورسزنے ایک ڈرون پر فائرنگ کی جو وسطی بغداد میں گرین زون کے اندر اس کی عمارت کے اوپر سے گذرا۔

بغداد کی ویب سائٹ نے ایک سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ "الخضرا کے قریب ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں الحشد الشعبی فورسز کے ہیڈ کوارٹر کے اوپر ایک عجیب و غریب چیز کی نشاندہی کی گئی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ڈرون تھا۔ اس پر گولی چلا دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا، "الخضرا کے اوپر پرواز کرنے والا طیارہ سرکاری فورسز کے ساتھ تعاون کے بغیر آیا تھا اور اسے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراقی عسکری دھڑوں نے عراق میں امریکی عین الاسد اڈے کو نشانہ بنایا جس کے بعد امریکی افواج نے جوابی کارروائی کی ہے۔

منگل کی صبح عراقی دھڑوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے جواب میں مغربی عراق میں امریکی عین الاسد اڈے کو نشانہ بنایا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں