7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران حماس کے اغوا شدہ یرغمالیوں کو حماس کے مزاحمت کاروں نے بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر دیا۔ 29 نومبر 2023 کو ایک عارضی جنگ بندی کے دوران حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ان افراد کو غزہ کی پٹی میں ایک نامعلوم مقام پر حوالے کیا گیا۔ (اے ایف پی)

فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کو جنگ بندی میں توسیع کے بعد رہا کیے جانے والے یرغمالیوں کی نئی فہرست موصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ اسے غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے خواتین اور بچوں کی ایک نئی فہرست موصول ہوئی ہے جنہیں جمعرات کو حماس گروپ جنگ بندی میں ایک دن کی توسیع کے بدلے رہا کرے گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ''کچھ عرصہ قبل اسرائیل کو معاہدے کی شرائط کے مطابق خواتین اور بچوں کی فہرست دی گئی تھی اور اس لیے جنگ بندی جاری رہے گی''۔ بیان میں رہا ہونے والے یرغمالیوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں جمعرات کو مزید ایک دن کی توسیع کر دی گئی جس کا دونوں جماعتوں نے الگ الگ اعلان کیا۔

اسرائیلی فوج نے ٹائم فریم کی وضاحت کیے بغیر کہا، "ثالثین کی کوششوں کی روشنی میں یرغمالیوں کی رہائی کا عمل جاری رکھنے اور فریم ورک کی شرائط کے تحت آپریشنل تؤقف جاری رہے گا۔"

ثالثی کرنے والے ملک قطر نے بھی جمعرات کو توسیع کی تصدیق کی۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بیان میں کہا، "فلسطینی اور اسرائیلی فریقین نے غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کو انہی سابقہ شرائط کے تحت ایک اضافی دن کے لیے بڑھانے کا معاہدہ کیا۔ یہ شرائط ریاست قطر کی مشترکہ ثالثی کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے جنگ بندی اور انسانی امداد کا داخلہ ہیں۔

مصر اور امریکہ کے ساتھ ساتھ متحارب فریقین کے درمیان کلیدی ثالث کی حیثیت رکھنے والے قطر کے ترجمان کے مطابق جنگ بندی کی شرائط بشمول دشمنی کے خاتمے اور انسانی امداد کے داخلے کی شرائط وہی رہیں گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن بدھ کی رات بات چیت کے لیے اسرائیل پہنچے جس کے ساتھ مزید یرغمالیوں کی رہائی اور تباہ حال غزہ میں اضافی امداد کی اجازت دینے کی غرض سے تؤقف بڑھانے کے لیے دباؤ تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں