اسرائیل کا ایک F-35 لڑاکا طیارہ 9 اکتوبر 2023 کو شمالی اسرائیل میں لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد کے اوپر آسمان پر نظر آ رہا ہے
دی ہیگ کی ایک عدالت نے جمعرات کو کہا کہ ایک ضلعی عدالت پیر کو ڈچ ریاست کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے لائے جانے والے مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو F-35 لڑاکا طیاروں کے پرزوں کی برآمدگی نیدرلینڈز کو غزہ میں جنگی جرائم میں ملوث بناتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور آکسفیم کی نیدرلینڈز کی شاخوں سمیت تنظیموں کا کہنا ہے کہ "نیدرلینڈز جاری تنازع کے دوران اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے اسپیئر پارٹس کی کھیپ کی اجازت دے کر غزہ میں اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر اور سنگین خلاف ورزیوں میں حصہ ڈال رہا ہے"۔
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے اثرات
دوسری طرف ڈچ وزیر دفاع نے ڈچ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وہ عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے کیس پر تبصرہ نہیں کریں گی۔
اس ماہ کے شروع میں ڈچ اخبار NRC نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ ہالینڈ نے قانونی مشیروں کے انتباہ کے باوجود اسرائیلی F-35 لڑاکا طیاروں کے اسپیئر پارٹس کی کھیپ کی اجازت دی تھی کہ ایسے طیارے غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر بمباری میں استعمال ہو رہے ہیں۔
موجودہ جنگ بندی کے آغاز تک اسرائیلی فورسز نے 7 اکتوبر کو حماس کے ارکان کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں کے بعد سات ہفتوں تک غزہ کی پٹی پر بمباری جاری رکھی، جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ 1,200 افراد کی ہلاکت اور 240 قیدیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت سے اب تک 15000 سے زائد غزہ کے شہری شہید ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سمیت متعدد عہدیداروں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ تل ابیب کا کہنا ہے کہ اس کی افواج گنجان آبادی والے شہری علاقوں میں تعینات فلسطینی عسکریت پسندوں سے لڑتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتی ہیں۔