غزہ میں بمباری کا منظر
نیتن یاہو کا قیدیوں کی بازیابی کے لیے مذاکرات کا اعلان،حماس کا جنگ ختم کرنے کا مطالبہ
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ حماس کے زیر حراست قیدیوں کی بازیابی کے لیے نئے مذاکرات جاری ہیں۔
اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے سربراہ نے حماس اور تل ابیب کے درمیان ثالثی کرنے والے قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے مذکورہ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ حماس کو معلومات ظاہر نہیں کریں گے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے نے نومبر میں قیدیوں کی رہائی کے لیے جزوی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "میں مذاکراتی ٹیم کو جو ہدایات دیتا ہوں وہ اس دباؤ پر مبنی ہیں جس کے بغیر ہمارے پاس کچھ نہیں ہے"۔
نیتن یاہو نے کہا کہ "اسرائیل کو غزہ پر مذاکرات میں جنگ بندی اور افواج کے انخلاء کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا"۔
دوسری جانب حماس نے ہفتے کی شام ایک مختصر بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی پر حملہ روکنے سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
حماس نے بیان میں کہا کہ "حماس اپنے موقف کی تصدیق کرتی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات کا آغاز اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوجاتی۔ حماس نےیہ پیغام ثالثوں تک بھی پہنچا دیا ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز امریکی میڈیا نے ایک اسرائیلی ذریعے سے اطلاع دی تھی کہ تل ابیب نے حماس کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے بارے میں بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جس میں 7 اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں تحریک کی طرف سے حراست میں لی گئی باقی خواتین کی رہائی بھی شامل ہے۔
جمعہ کی رات غزہ کی پٹی میں اسرائیلی زیر حراست افراد کے خاندانوں کے سینکڑوں افراد اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کے سامنے جمع ہوئے اور اپنے پیاروں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبات اسرائیلی فوج کی جانب سے 3 قیدیوں کو غلطی سے ہلاک کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں حماس کے ہاتھوں تین اسرائیلی یرغمالی "غلطی سے" مارے جانے کے بعد "ناقابل برداشت سانحہ" پر افسوس کا اظہار کیا جب اسرائیلی افواج کا خیال تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگری نے کہا کہ "شجاعیہ میں لڑائی کے دوران، فوج نے غلطی سے تین اسرائیلی قیدیوں کو خطرہ سمجھتے ہوئے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ فسوسناک واقعہ ہے جس پر وہ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ سات اکتوبر کے اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد غزہ میں اب تک 19 ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔