’بشت الحساوی‘ کی کہانی جسے شاہ فیصل نے اپنے بچپن میں دورہ برطانیہ کے دوران زیب تن کیا
سعودی عرب کے تاریخی علاقے ’الاحساء‘ کی روایتی دست کاری سے تیار ہونے والی پوشاک ’بشت‘ کے دنیا بھر میں چرچے ہو رہے ہیں۔ ’بشت الحساوی‘ کی تاریخ کافی پرانی ہے۔
ایک صدی پیشتر ’بشت الحساوی‘ کو سنہری نمونوں پر پرتعیش سنہری زری سے کڑھائی کے ذریعے تیار کی گئی۔ اس نے ایک مختلف اور حیرت انگیز شکل اختیار کرلی ہے۔اس قسم کی بشت کو " المعلمہ" بشت کہا جاتا ہے،جو زیادہ تر بُنی جاتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کمر اور کندھوں پر سرکنڈوں اور ریشم کے دھاگوں سے کڑھائی شدہ کپڑا ہی دراصل بشت ہے۔
’بشت استاد‘المعلمہ‘
مشرقی سعودی عرب کا علاقہ الاحساء "المعلمہ" بشت بنانے اور سلائی کرنے کے لیے مشہور تھا۔ یہ وہی بشت ہے جو الاحساء میں بنایا گیا تھا اور شاہ فیصل نے اپنے برطانیہ کے تاریخی سفر کے دوران زیب تن کیا تھا۔ یہ یاد رہے کہ ایک صدی قبل شاہ فیصل مرحوم سعودی عرب کے فرمانروا نہیں تھے بلکہ اس وقت وہ نو عمر تھے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس کی عمر ان کی عمر 14 سال تھی جب وہ مملکت کی پہلی بندرگاہ "عقیر بندرگاہ عقیر" سے اپنے سفر کے لیے روانہ ہوئے اور عرب لباس پہنے برطانیہ پہنچے۔ سفید رنگ ’حساوی بشت‘ میں پہلومیں تلوار اور کمر میں خنجر تھا‘‘۔
یہ بشت عرب خلیجی ریاستوں کے فرمانرواؤں کی شاہی پوشاکوں کے لیے مشہور تھا۔ اس کا ایک اور نام "الممشط" بشت ہے۔ یہ خاص شاہی مواقع کے دوران پہنا جانے والا شاہی لباس بن چکا ہے۔ اسے کویت، اور سلطنت عمان کے بادشاہوں سمیت کئی دوسرے خلیجی ممالک کے رہ نماؤں نے پہنا۔
سونے کی قلعی
الاحسا میں قصر ابراہیم کے وسط میں ہیریٹیج اتھارٹی کے زیر اہتمام الحساوی بشت فیسٹیول کے دوران الحساوی بشت کے بنانے والے انور الامیرنے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے " معلمہ" بشت کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک جھنڈے کی شکل میں ہے۔ سب سے زیادہ عالیشان زری سے بنائی جاتی ہے۔
سب سے پہلے اسے سعودی شاہی خاندان کے چشم وچراغ شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود نے پہن کر شرف بخشا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الحساوی صدیوں سے دنیا میں بہترین پہناوا رہا ہے۔ یہ ہاتھ سے سلائی اور روایتی دستکاری سے تیارکی جاتی ہے۔