غزہ کا منظر ایک فوجی چھاونی میں تبدیل
غزہ میں العودہ ہسپتال فوجی چھاؤنی میں تبدیل،قابض فوج نےسیکڑوں افراد حراست میں لے لیے
اڑھائی ماہ پیشتر غزہ میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان چھڑنے والی خوفناک جنگ آج منگل کو بھی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب میں ہر طرف بمباری کررہی ہے جس میں مزید دسیوں افراد شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت میں غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے منگل کے روز بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے شمالی غزہ کی پٹی میں العودہ ہسپتال کے اندر سے 240 افراد کو حراست میں لیا، جن میں طبی عملے کے افراد، مریض اور بے گھر افراد شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ہسپتال کو فوجی بیرک میں تبدیل کر دیا اور ہسپتال کے ڈائریکٹر سمیت چھ طبی اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
اشرف القدرہ نے بتایا کہ ہسپتال سےحراست میں لیے گئے افراد میں طبی عملے کے 80 افراد، 40 مریض اور 120 بے گھر افراد شامل ہیں۔ قابض فوج نے انہیں پانی، خوراک یا دوا کے بغیر حراست میں لیا گیا ہے۔
فلسطینی میڈیا نے آج اطلاع دی تھی کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں مشرقی رفح میں کئی گھروں پر اسرائیلی بمباری سے مرنے والوں کی تعداد کم از کم 29 ہو گئی ہے۔ فلسطین ٹی وی نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ مرنے والوں میں ایک صحافی بھی شامل ہے۔
فلسطینی ٹی وی نے بتایا کہ جبالیہ کیمپ کے ایک رہائشی چوک پر اسرائیلی بمباری میں درجنوں افراد مارے گئے۔ اسی دوران وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے کہا کہ جبالیہ میڈیکل سنٹر سے ملحقہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے دو صحافی زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ جبالیہ پر فضائی حملے میں کم از کم 10 فلسطینی شہید اور 40 زخمی ہوئے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
درایں اثناء اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں شمالی غزہ میں دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل اخبار نے رپورٹ کیا کہ فوج نے غزہ کی پٹی میں جاری لڑائیوں میں اپنے 7 فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے، جس سے غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج کی ہلاکتوں کی تعداد 129 ہو گئی ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ شمالی غزہ کی پٹی کے ایک ہسپتال جس پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا تھا کو غیر فعال کردیا گیا ہے۔ اس میں زخمی، بیمار اور عام شہری موجود ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
غزہ میں حکام نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی فورسز نے کمال عدوان ہسپتال کے احاطے کو تباہ کرنے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کیا، جس سے بے گھر افراد کو وہاں سے زبردستی نکال دیا گیا۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ ہسپتال حماس کے جنگجو استعمال کر رہے تھے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ وہ فوری طور پر ہسپتال کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔
جنگ کی وجہ سے غزہ کے بیشتر ہسپتالوں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور شمالی غزہ میں صحت کی خدمات سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔