امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ غزہ پر سلامتی کونسل میں نئی قرارداد کی حمایت کرسکے گا۔ اس قرارداد میں غزہ کے لیے امداد کا معاملہ بھی جڑا ہوا ہے۔
اسرائیل کا پکا اتحادی اس سے پہلے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے حوالے سے دو قراردادیں ویٹو کر چکا ہے۔
بلینکن نے واشنگٹن میں رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں امریکہ کی طرف سے کی گئی دو ویٹوز پر عرب ممالک کی ناراضگی پر امریکہ ان سے رابطہ میں ہے۔
ہم اس پر بڑی سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں، اس سلسلے میں پچھلے دو دنوں کے دوران میرا ان سے فون پر بھی رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے بڑی امید ہے کہ ہم کسی اچھے نکتے پر متفق ہو جائیں گے۔
سلامتی کونسل میں جنگ بندی اور غزہ میں امدادی سامان کے حوالے سے اب تک کی آخری قرارداد متحدہ عرب امارات کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔ تاہم اس پر پیر کے دن ہونے والی ووٹنگ ابھی تک التواء میں ہے۔ اس التواء کی بڑی وجہ امریکہ کی طرف سے قراداد کے متن میں اپنی مرضی کی تبدیلی کرانے کی کوشش ہے۔
بلینکن نے کہا کہ اس معاملے میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل ایک اہم نکتہ ہے کہ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ امداد کی تقسیم کا سارے کا سارا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ یہ قرارداد اس طرح منظور ہو کہ مستقبل میں انسانی بنیادوں پر امداد میں کوئی رخنہ نہ آئے اور کوئی پچیدگی پیدا نہ ہوا۔ اس لیے ہم قرارداد کے متن کو زیادہ بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انھوں نے دلیل پیش کی کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں سفارتی شعبے میں پیش رفت کی ہے۔ بشمول غزہ میں امدادی کارروائی کے لیے دوسری راہداری کرم شالوم کے کھولنے کے۔