نیتن یاہو اور بائیڈن تل ابیب سے

فلسطین اسرائیل تنازع

صدر جوبائیڈن اسرائیلی وزیراعظم سے مایوس، نیتن یاھو کے متبادل پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی پر 3 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم اور اختلافات میں ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ نے غزہ کی پٹی پر جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہوکے متبادل کی تلاش شروع کردی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کے حوالے سے بائیڈن انتظامیہ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔

متعدد اسرائیلی اور امریکی حکام کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے حالیہ دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے جنگ کے بعد غزہ پرحکومت کرنے کی امریکی تجاویز پرغور سے انکار زیادہ فیصلہ کن اور واضح ہو گیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

تمام تجاویز مسترد

امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’این بی سی‘ کے مطابق حکام نے انکشاف کیا کہ بلنکن 7 اکتوبر کو غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ کے اپنے چوتھے دورے پر اسرائیل آئے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے متعدد تجاویز پر بات کی مگر مسٹر یاھو نے سوائے ایک تجویز کے باقی تمام تجاویز مسترد کردیں۔ جو تجویزانہوں نے قبول کی وہ حزب اللہ کے خلاف جنگ شروع کرنے سے گریز کی تھی۔

بنجمن نیتن یاہو اور جو بائیڈن تل ابیب میں

نیتن یاہو کا متبادل

اس امریکی مایوسی کے عالم میں تین سینیر امریکی عہدیداروں نے اطلاع دی کہ بائیڈن انتظامیہ نے خطے میں اپنے تصورات کے حصول کے لیے نیتن یاہو سے آگے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اسرائیل میں اپنے ہم خیال لیڈر کی ضرورت ہے۔

کئی سینیرامریکی حکام نے کہا کہ نیتن یاہو"ہمیشہ اقتدارمیں نہیں رہیں گے۔"

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نیتن یاہو کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے دیگراسرائیلی رہ نماؤں اور سول سوسائٹی کے رہ نماؤں کے ساتھ مل کر کچھ بنیادیں تیار کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلنکن نے نیتن یاہو کو روکنے کی کوشش میں اپنے حالیہ دورہ تل ابیب کے دوران جنگی کابینہ کے ارکان اور حزب اختلاف کے رہ نما اور سابق وزیر اعظم یائر لپیڈ سمیت دیگر اسرائیلی رہ نماؤں سے انفرادی طور پر ملاقات کی۔

انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی وزیر خارجہ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ "حماس کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ اسرائیلی رہ نما کو اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی اور تشدد جاری رہے گا"۔

یہ معلومات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب غزہ کے حوالے سے بہت سے نکات پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات پائے جاتے ۔ان میں جنگ کی شدت کو کم کرنے کی کوشش اور حماس کے رہ نماؤں اور سائٹس پرتوجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔ امریکا غزہ جنگ میں عام شہریوں کی اموات کم کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اسرائیل پر جنگی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں