مظاہرین

نیتن یاہو عدم اعتماد کی تحریک سے بچ گئے،یرغمالیوں کے اہل خانہ کا کنیسٹ پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] میں پیر کو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پر عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی۔

ٹائمز آف اسرائیل اخبارنے خبر دی ہے کہ حزب اختلاف کی لیبر پارٹی کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کو صرف 18 ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی، جو کہ 120 رکنی کنیسنٹ میں اسے منظور کرنے کے لیے ضروری اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

لیبر پارٹی نے غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست 136 اسرائیلیوں کی واپسی کو محفوظ بنانے میں حکومت کی "ناکامی" پر اپنی تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔

حکمران اتحادی جماعتوں نے عدم اعتماد کی تحریک کا بائیکاٹ کیا، کیونکہ ان کے رہ نماؤں نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ "جنگ کے وقت سیاسی تنازعات میں شرکت نہیں کریں گے"۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے میڈیا کی ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کے لواحقین کے لیے حماس نے کوئی سنجیدہ تجویز پیش نہیں کی۔

وزیر اعظم کے دفتر نے نیتن یاہو کے حوالے سے یرغمالی رشتہ داروں کے ایک گروپ سے کہا کہ "حماس کی طرف سے کوئی سنجیدہ تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ (قیاس آرائی) غلط ہے کہ غزہ میں کوئی نئی ڈیل ہو رہی ہے۔ میں یہ واضح طور پر کہہ رہا ہوں کیونکہ میں بہت سارے غلط بیانات ہیں جو یقیناً آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

غزہ میں حماس کے زیر حراست افراد کے خاندان کے درجنوں افراد نے پیر کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ میں فنانس کمیٹی کے اجلاس پر دھاوا بول دیا اور نعرے لگائے۔ مظاہرین’’ہمارے پیارے وہاں مررہے ہیں تم یہاں نہیں بیٹھو گے‘‘۔ کے نعرے لگا رہے تھے۔

یرغمالیوں کے اہل خانہ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ معاہدہ کرے۔

قیدیوں کے رشتہ داروں نے حالیہ دنوں میں اپنے احتجاجی مظاہروں کو منظم کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے رشتہ داروں کی رہائی کے لیے مزید کوششیں کی جائیں۔

اسرائیلی قیدیوں کے متعدد رشتہ دار اتوار کی شام بنجمن نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے سامنے جمع ہوئے اور خیمے لگا کران سے اپنے پیاروں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا، جب کہ سینکڑوں افراد نے تل ابیب میں جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرہ کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں