چار نومبر 2022 کو اماراتی دارالحکومت ابوظہبی کے قریب خلیجی جزیرے ڈلما کے ساحل پر بچے غبارے اٹھائے کھیل رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امارات میں بچوں کی پرورش اور کفالت سے متعلق قوانین جانیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ متحدہ عرب امارات میں بچوں کو گود لینے کی اجازت نہیں ہے، شہری اور غیر ملکی رہائشی جو ملک کے طے شدہ معیارات پر پورا اترتے ہیں وہ مختلف پروگراموں کے تحت بچوں کے رہنے کے اخراجات کو سپانسر کر سکتے ہیں۔

بچوں کے حقوق سے متعلق متحدہ عرب امارات کا قانون جو ودیمہ کے قانون کے نام سے بھی معروف ہے، کہتا ہے کہ ایک بچہ جو اپنے فطری خاندان سے محروم ہے، اسے رضاعی خاندان کے ذریعے یا اگر رضاعی خاندان دستیاب نہیں ہے تو سرکاری یا نجی سماجی بہبود کے ادارے میں متبادل نگہداشت کا حق حاصل ہے۔

تاہم صرف اماراتی شہری ہی بچے کی پرورش کے اہل ہیں۔

بچے کی پرورش کے لیے اہلیت کا معیار

مطلوبہ دستاویزات

کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی وزارت (ایم او سی ڈی) متحدہ عرب امارات میں رضاعی نگہداشت کے پروگرام کی نگرانی کرتی ہے۔ پرورش کے خواہاں شہریوں کو ایم او سی ڈی کے ذریعے رضاعی والدین کی درخواست جمع کرواتے وقت درج ذیل دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔

کیا تنہا خواتین پرورش کر سکتی ہیں؟

متحدہ عرب امارات میں تنہا خواتین کو بچے کی پرورش کی اجازت ہے اگر وہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتی ہوں۔

ایم او سی ڈی کے علاوہ دیگر سرکاری ادارے بھی بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرتے ہیں بشمول ابوظہبی میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ کا محکمہ، دبئی میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور حکومت شارجہ کا سوشل سروسز ڈیپارٹمنٹ۔

اماراتی ہلالِ احمر اتھارٹی متحدہ عرب امارات کے اندر اور باہر یتیموں کی کفالت کے پروگراموں میں بھی سہولت فراہم کرتی ہے اور زکوٰۃ فنڈ یتیموں کے خاندانوں کی کفالت کے لیے ایک ’یتیم بچوں کا پروجیکٹ‘ چلاتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں