بچایا گیا عقاب

وائلڈ لائف فوٹوگرافر نے عقاب کو کتوں کے حملے سے بچایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سعودی عرب کے علاقے تنومہ میں اپنے فوٹو گرافی مہم کے لیے قدرتی جگہوں پر تلاش کے دوران، فوٹوگرافر سعد آل مداوی ایک عقاب کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے جو غلطی سے ایک ایسی جگہ پر جا گرا جہاں کتوں کا ایک جھنڈ جمع تھا۔

سعد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اس واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میں ایک وائلڈ لائف فوٹوگرافر ہوں اور ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ میں میری دلچسپی ہے، اور اپنے ملک کے تئیں میرا فرض ہے کہ میں اس عقاب کو بچاتا۔ عقاب اس علاقے کی طرف خراب موسم اور شدید دھند کی وجہ سے آگیا تھا۔ اسی وقت میں اپنے ایک تحقیقی سفر پر تھا جو میں عسیر کے علاقے کے شمال میں، تنومہ گورنری کے پہاڑوں میں اکثر کرتا تھا۔ میں نے اس رستہ بھٹکے ہوئے عقاب کو دیکھا، جو مجھے ایک دوست نے دکھایا تھا جو جنگلی حیات میں میری دلچسپی کو جانتا تھا۔ مجھے چونکہ علم ہے کہ یہ عقاب کہاں رہتے ہیں اور موجود ہیں، تو میں نے اسے وہاں سے بچایا اور اس کی صحت کی دیکھ بھال کے بعد پہاڑوں میں اونچے مقام پر چھوڑ دیا۔ یہاں تک میں نے اسے دوبارہ اڑتے دیکھا، مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگلی حیات اور خطرے سے دوچار انواع کی حفاظت ہر ایک کی ذمہ داری ہے، تاکہ مملکت میں حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھا جائے۔

عسیر میں وزارت کی برانچ کے ڈائریکٹر انجینئر احمد بن مجثل نے بتایا کہ عقاب کو ایک نایاب اور خطرے سے دوچار پرندہ سمجھا جاتا ہے اور ماحولیاتی کارکن "سعد آل مداوی" کا یہ عمل قابل ستائش ہے۔ یہ مخصوص ماحولیاتی کام کرتے ہیں، اور لوگوں میں بیداری اور ماحولیاتی ذمہ داری کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں