اقوام متحدہ اور ہلال احمر کے کارکنان پیر، 23 اکتوبر 2023 کو دیر البلاح، غزہ کی پٹی میں UNRWA کے گودام میں فلسطینیوں میں تقسیم کے لیے امداد تیار کر رہے ہیں
امدادی سامان غزہ منتقل ہو سکے گا یہ نہیں؟غزہ کی سرحد سے جڑی ایک نئی سڑک کا جائزہ
اقوام متحدہ کی ٹیم آج جمعرات کے روز غزہ کی سرحد سے جڑی ایک نئی سڑک کا آج جائزہ لے گی کہ اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ غزہ تک اس راستے سے امدادی سامان پہنچایا جا سکے گا یا نہیں۔ یہ کوشش اسرائیلی فوج کی طرف سے رفح راہداری پر عائد کردہ قدغنوں اور کریم شالوم راہداری پر یہودی انتہا پسندوں کی طرف سے امدادی ٹرکوں کو روکنے کے معمول کے بعد کی جارہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کے خیال میں غزہ میں کم از کم 576000 فلسطینی براہ راست قحط کا شکار ہیں۔ اس لیے انہیں قحط زدہ زندگی سے نہ بچایا گیا تو بھوک سے اموات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ خیال رہے بھوک اور پیاس سے اب تک فلسطینی بچوں کی ہلاکتیں شروع ہو چکی ہیں اور کم از کم 18 بچے اس کی نذر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق یہ نیا راستہ بھی اسرائیلی فوج کے زیر استعمال ایک سڑک ہے تاہم جمعرات کے روز اس کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ اس سے خاطر خواہ امدادی سامان غزہ منتقل ہو سکے گا یہ نہیں۔ اسرائیل کی کوشش رہتی ہے کہ اقوام متحدہ کے اداروں کو کبھی ایک جانب اور کبھی دوسری طرف کے نئے نئے آئیڈیا ز دے کر مصروف رکھے اور کام بھی نہ ہونے دینے کے باوجود تعاون کرنے کا تاثر بنا سکے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ امدادی رابطہ کار جیمی میک گولڈرک کے مطابق ان کا ادارہ کئی ہفتوں سے اسرائیل سے یہ بات چلا رہا ہے کہ باڑ والی سڑک کو غزہ کے لیے امدادی سامان لانے کی خاطر استعمال میں لایا جائے۔ اس سلسلے میں اسرائیل سے گزشتہ ہفتے تعاون ملا ہے۔
واضح رہے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے جمعرات کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں امدادی ٹرک سے خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع ہونےوالے فلسطینیوں پر فائرنگ کر کے 115 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر دیا تھا جبکہ سات سو کے لگ بھگ زخمی کر دیے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل کی لعن طعن کے بعد اب اسرائیل نے یہ تعاون کا تاثر پیدا کرنے کی حامی بھری ہے۔
گولڈرک نے میڈیا کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا ' ، میرے خیال میں اسرائیل نے واضح طور پر دیکھا کہ امداد فراہم کرنا کتنا مشکل ہے،اس احساس کے نتیجے میں اسرائیل کی طرف سے بہت زیادہ تعاون دیکھا ہے۔' ان کے خیال میں جب اس راستے سے ہم غزہ میں داخل ہو جائیں گے تو ہمیں آگے خود جانے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔'
انہوں نے مزید بتایا کہ اس راستے سے شمالی غزہ تک پہنچنا اس لیے آسان رہے گا کہ اس کے راستے میں غزہ کے اندر بھی بھیڑ والا ماحول نہیں ملے گا، نہ کہیں فلسطینیوں کا ہجوم ہو گا ۔' یقینا ً فلسطینی بے گھر بھوک سے لڑلڑ کر مرتےہوئے ٹرکوں کی طرف لپکے یہ اسرائیلی فوج کو بالکل پسند نہیں۔