اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ معروف کینیڈین آرٹسٹ ویک اینڈ نے غزہ کے فلسطینیوں کی خوراک کے لیے امدادی رقم دی ہے۔ امدادی رقم کا یہ عطیہ 2 ملین ڈالر کا ہے۔ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ کینیڈین آرٹسٹ نے فلسطینیوں کے لیے امداد فراہم کی ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس رقم سے بھوک و قحط کے شکار فلسطینیوں کی خوراک کا بندوست ہو سکے گا۔ 'ڈبلیو ایف پی' کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا یے کہ خیر سگالی سفیر برائے 'ڈبلیو ایف پی' ویکنیڈ ابیل تصفیہ نے 'ہیومینیٹیرین فنڈ' سے غزہ کے فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ہونے والی کوششوں کے لیے 2 ملین ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔'
جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے 'اس امدادی رقم سے 150 میٹرک ٹن گندم کے آٹے سے 18 لاکھ روٹیاں بنائی جائیں گی۔ جس سے 157000 فلسطینیوں کو ایک ماہ کے لیے روٹی کھلائی جا سکے گی۔'
کینیڈین آرٹسٹ ویک اینڈ کی بھیجی گئی 2.5 ملین ڈالر کی امدادی رقم دسمبر 2023 میں بھیجی گئی رقم کے مقابلے میں چار ملین کھانوں کے برابر ہے۔ جس سے 173000 فلسطینیوں کی دو ہفتوں کی خوراک کے لیے 820 میٹرک ٹن کھانے کی ضرورت پوری ہوگی۔
علاوہ ازیں ویک اینڈ نے مداحوں سے درخواست کی ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کی مدد کے لیے 'ڈبلیو ایف پی' کو جو کچھ عطیہ کر سکتے ہیں ضررو کریں۔' اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں شدید بھوک و قحط کا سامنا ہے۔ نیز فوری امداد کی سخت ضرورت ہے۔'