مشرقی رفح کا انخلاء۔ (اے ایف پی)

فلسطین اسرائیل تنازع

مشرقی رفح سے فلسطینیوں کے انخلاء کے پیچھے نیتن یاھو کا کون سا منصوبہ کار فرما ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو رفح پر حملہ کرنے کے جواز کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے شروع سے ہی شہر پر حملہ کرنے کا اپنا منصوبہ ترتیب دے دیا تھا۔ حالانکہ وہاں پر لاکھوں بے گھر افراد کے جمع ہونے کے بعد امریکہ، یورپ اورانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بار بار اسرائیل کو رفح پر چڑھائی کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔
اس حملے کی کئی مہینوں سے توقع کی جا رہی تھی، لگتا ہے کہ اسرائیل اس کے لیے اب مکمل طور پر تیار ہوچکا ہے۔ اگرچہ تل ابیب نے ابھی تک حملے کے آغاز کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، مگراسرائیلی فوج نے فلسطینیوں سے رفح کے مشرقی علاقوں کو خالی کرنے حکم دیا ہے۔

اسرائیلی فورسز نے عام شہریوں کو المواسی اور خان یونس میں "توسیع شدہ انسانی کوریڈور" میں منتقل ہونے کی ہدایت کی۔
درایں اثنا اسرائیلی آرمی چیف کے ترجمان اویچائی ادرعی نے آج سوموار کو"ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں رفح میں بےگھر لوگوں کو خبردارکیا کہ وہ غزہ شہر کی طرف نہ جائیں کیونکہ وہ ابھی تک جنگی زون میں شامل ہے اور وہاں جانا خطرناک ہوسکتا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے انہیں خبردار کیا کہ وہ وادی غزہ سے شمال کی طرف نہ لوٹیں، یا مشرقی اور جنوبی حفاظتی باڑ کے قریب نہ جائیں۔

"آپریشنل کے لیے جانچ"

نیز اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ رفح سے انخلاء کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر نہی
کرے گی اور "آپریشنل تشخیص" کرے گی۔اس نے مزید کہا کہ شہر کے مشرق سے انخلاء میں تقریباً 1 لاکھ افراد شامل ہیں۔

دوسری جانب حماس کے ایک سینیر رہ نما نے خبر رساں ادارے رائیٹرز کو خبردار کیا کہ رفح سے اسرائیلی انخلاء کا حکم ایک "خطرناک پیش رفت" ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، جس کا ذمہ دار اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ٹائمنگ کی وجوہات

لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے اس مخصوص وقت پر یہ قدم کیوں اٹھایا؟

اسرائیل کی طرف سے مشرقی رفح کو خالی کرنے کا مطالبہ اس دن سامنے آیا جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے خاتمے کے اشارے سامنے آئے ہیں۔

غزہ کے جنوب میں رفح شہر سے (رائٹرز)

کل اتوار کو حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے موجودہ دور کے اختتام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفد قائدین سے مشاورت کے لیے قاہرہ روانہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفد غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے قاہرہ روانہ ہو گیا ہے۔ مصر اور قطر میں کے ساتھ گہرائی میں اور سنجیدہ بات چیت ہوئی۔

امریکی قطری دباؤ

دریں اثنا ایک اہلکار نے رائیٹرز کو بتایاکہ قطر اور امریکہ اسرائیل اور حماس پر مذاکرات جاری رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نےکہاکہ امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر ولیم برنز قطر میں ہیں کیونکہ "غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات ختم ہونے کے دہانے پر ہیں۔"

Your browser doesn’t support HTML5 video

کریم شالوم حملہ

ایک اور وجہ جس نے اسرائیل کو رفح پر حملہ کرنے کے عمل کو تیز کرنے کی ترغیب دی ہے کاریم شالم کراسنگ پرحماس کا حملہ ہے جو گذشتہ روز کیا گیا۔

کل اتوار کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کی سرحد پر کاریم شالوم کراسنگ پر حماس کے میزائل حملے میں 3 فوجی مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ 12 فوجی زخمی ہوئے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں