اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ 27 اکتوبر 2023 کو نیویارک شہر میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعہ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی خصوصی اجلاس سے خطاب کر رہی ہیں۔ (رائٹرز)

فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت دینے کی قرارداد پر جنرل اسمبلی میں ووٹنگ آج متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کہ مکمل رکنیت دینے کے سلسلے میں قرارداد پر آج ووٹنگ کا امکان ہے۔ خیال رہے فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کے لیے قرارداد پر جنرل اسمبلی کے 193 ارکان ووٹنگ میں حصہ لیں گے ۔

فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اقوام متحدہ میں یہ درخواست سات ماہ قبل اقوام متحدہ میں فائل کی گئی تھی۔ یہ درخواست ایسے موقع پر پیش کی گئی جب غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔جو ابھی تک جاری ہے۔

جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیل ناجائز اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر مبنی یہودی بستیاں قائم کیے جا رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کو اس وقت نان ممبر کے طور پر صرف مبصر کی حیثیت حاصل ہے۔

قرارداد کی منظوری کی صورت میں سلامتی کونسل کو دوبارہ درخواست کی جائے گی کہ وہ فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کے لئے معاملے کو از سر نو زیر بحث لائے اور اس کے حمایت میں فیصلہ کرے۔

محض چند ہفتے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فلسطینی اتھارٹی کی اس درخواست پر بحث کے بعد ووٹنگ کی تھی ۔ سلامتی کونسل میں قرارداد پر ووثنگ کے نتیجے میں مطلوبہ ووٹ بھی مل گئے تھے۔ مگر بعد ازاں امریکہ کی طرف سے سلامری کونسل کی اس رائے کو کو ویٹو کر دیا گیا۔

جنرل اسمبلی کی طرف سے قرار داد کی منظوری اور سلامتی کونسل میں دوبارہ اس معاملے میں غور کی سفارش کے بعد بھی حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی طرف سے حتمی منظوری کی بنیاد پر ہی ہو گا۔ محض جنرل اسمبلی کی اکثریت کا اور مطلوبہ ووٹ ملنے کے باوجود کسی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا فیصلہ نہیں ہو سکتا ہے۔

البتہ آج جمعہ کے روز اس قرارداد کی منظوری کے نتیجے میں ستمبر 2024 سے فلسطین کو بطور ایک ریاستی شناخت کچھ اضافی حقوق مل سکتے ہیں ۔ اس صورت میں جنرل اسمبلی میں دوسرے ارکان کی طرح ایک نشست بھی الاٹ کر دی جائے گی۔ تاہم ووٹنگ کا حق ملنے کے لیے سلامتی کونسل کی منظوری لازم ہے۔

سفارتی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ امکانی طور پر اس قرارداد کو جنرل اسمبلی میں مطلوبہ ووٹ مل جآئیں گے۔ بعد ازاں سلامتی کونسل کی حتمی منظوری لازمی ہو گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں