علی باقری کنی
علی باقری کنی کو حسين امير عبد اللهيان کی جگہ نیا ایرانی وزیر خارجہ مقرر کر دیا گیا
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی حادثے میں ہلاکت کے بعد معاون وزیر خارجہ علی باقری کنی کا نام نئے وزیر خارجہ کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ باقری کنی نے جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اور دو سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ منظر عام پر آیا تھا۔
بہت سے مبصرین نے کہا ہےکہ ایرانی وزیر خارجہ کے معاون برائے سیاسی امور علی باقری کنی جنہوں نے جوہری فائل میں ایرانی مذاکرات کار کے طور پر کام کیا وہ عبدللہیان کی جگہ وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھالیں گے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
بعد ازاں آج پیر کو ایرانی حکومت نے باقری کنی کو وزارت خارجہ میں عبداللہیان کا جانشین مقرر کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ 57 سالہ سفارت کار کی پیدائش اکتوبر 1967ء کی ہے اور وہ ستمبر 2021 سے وزارت میں سیاسی نائب کے عہدے پر فائز ہیں۔
علی باقری کنی
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری
اس سے قبل وہ 2007ء سے 2013 ء تک ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 2013ء کے صدارتی انتخابات میں سعید جلیلی کی صدارتی مہم کی سربراہی بھی کی۔
وہ محمد باقر باقری کے بیٹے ہیں جو ماہرین کونسل کے سابق رکن ہیں اور محمد رضا مہدوی کنی کے بھتیجے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس نے امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں ایک اہم مذاکرات کار کے طور پر کام کیا۔
وال سٹریٹ جرنل کے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ ہفتے سلطنت آف عمان میں امریکی اور ایرانی وفد کے درمیان ہونے والی بالواسطہ ملاقات کے بعد باقری کنی آئندہ بدھ کو جنیوا میں یورپی یونین کے حکام سے ملاقات متوقع تھی۔
تاہم اب رئیسی اور عبداللہیان کے ساتھ ساتھ ان کے سات ساتھیوں کی ہلاکت کی روشنی میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی ہے۔
اس سے پہلے آج بروز پیر کو ایرانی ہلال احمر نے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکالنے کا اعلان کیا، جن میں صدر ابرہیم رئیسی، وزیر خارجہ عبداللہیان، اور سات دیگر افراد شامل تھے جو کل اتوار کو ملک کے شمال مغرب میں گر کر تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔