غزہ میں اسرائیلی فوج
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت ساڑھے آٹھ ماہ سے جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اگلے کئی ماہ بھی جاری رہے گی۔ اسی دوران اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر نے انکشاف کیا کہ پٹی پر حکمرانی کے لیے حماس کے متبادل کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سینئر مشیر زاچی ہنیگبی نے منگل کو کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے کہ اقوام متحدہ اور کچھ یورپی اور عرب ممالک حماس کی حکمرانی کا متبادل کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
حماس کو شکست نہیں دی جا سکتی
زاچی ہنیگبی نے یہ بھی کہا کہ حماس کو بطور ایک نظریہ شکست نہیں دی جا سکتی اور غزہ کی پٹی میں اس کی جگہ مقامی قیادت کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کی پٹی سے حماس کو صاف کرنے کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے مقامی فلسطینیوں پر انحصار کرنے کے خیال پر بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی بازیابی کے لیے لڑ رہی ہیں لیکن ساتھ ہی انھوں نے وضاحت کی کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے پہلے اعلان کردہ جنگی اہداف پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے تاکہ سات اکتوبر کو ہونے والے واقعات کے دوبارہ وقوع کو روکا جا سکے۔ ان کا اشارہ حماس کو عسکری طور خاتمے کی جانب تھا۔
لبنان کی سرحد پر شمالی محاذ سے متعلق انہوں نے کہا کہ حکام آنے والے ہفتوں میں لبنان کے ساتھ تنازعہ کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بہتر یہ ہوگا کہ اس تنازعے کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکے۔ ان کا یہ بیان اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے کہ حماس کو ایک خیال اور نظریے کے طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا سوائے اس کے کہ غزہ پر حکومت کرنے کے لیے اس کا متبادل تلاش کیا جائے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ہگاری کے بیان نے اسرائیلی وزیر اعظم کو مشتعل کیا تھا جن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے خاتمے تک غزہ پر اس کا حملہ نہیں رکے گا۔ گزشتہ ہفتے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے نیتن یاہو سے عوامی طور پر مطالبہ کیا تھا کہ غزہ کے ان علاقوں میں جہاں سے فوج نکل گئی تھی وہاں اس کی واپسی کے حوالے سے واضح حکمت عملی کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے حماس کو ختم کرنے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے سوا نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح سٹریٹجک ہدف نہیں بتایا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے بدترین بمباری اور گولہ باری کرکے غزہ میں 37 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کردیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے خاتمے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کی پٹی کا انتظام دینے کی تجویز بھی مسترد کی ہے۔