بینجمن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ

نیتن یاہو کی بیگم بھی بیٹے کے نقش قدم پر، اسرائیلی فوج پر "انقلاب" کی کوشش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو نے دھماکا خیز انکشاف کرتے ہوئے اسرائیلی فوج پر عسکری انقلاب کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل نیتن یاہو کے بیٹے یائر نے بھی اس سے ملتا جلتا بیان دیا تھا۔

اسرائیلی اخبار ہاریتز کے مطابق سارہ نے سات اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں یرغمال اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کے نمائندگان کے ساتھ ایک سابقہ ملاقات میں کہا کہ وہ فوجی قیادت پر بھروسا نہیں کرتی ہیں کیوں کہ فوج کے سینئر جنرل ان کے شوہر کے خلاف بے حد جھوٹی خبریں صحافتی اداروں کو دیتے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس پر جب حاضرین میں سے کسی نے سارہ کی بات پر احتجاج کیا تو وزیر اعظم کی اہلیہ نے جواب میں کہا کہ اس بات کو نہیں سمجھا جا رہا کہ فوجی انقلاب کے واسطے ایک سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے۔ سارہ نے اپنی گفتگو میں بارہا اس الزام کو دہرایا۔

اسرائیلی ریزرو فوج کی ایک خاتون کرنل نے واضح کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی اہلیہ کے بیان کی گواہ ہیں۔ مذکورہ خاتون کرنل کا اپنا بیٹا بھی حالیہ جنگ میں مارا جا چکا ہے۔

بینجمن نیتن یاہو، ان کا بیٹا یائر، ان کی اہلیہ اور روسی صدر ولادی میر پوتین (ایسوسی ایٹڈ پریس)

چند روز قبل وزیر اعظم نیتن یاہو کے بیٹے یائر نے بھی فوج اور شاباک (داخلہ انٹیلی جنس) پر اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ یائر نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں میں فوجی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ ان کے والد کے خلاف فوجی انقلاب کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا مقصد سات اکتوبر کو حماس کے حملے کا مقابلہ کرنے میں فوجی قیادت کی ناکامی پر پردہ ڈالنا ہے۔

یائر نے اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرتسی ہیلفی ، فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ اہران ھلیفا اور جنرل انٹیلی جنس کے چیف رونین بار پر اسرائیلیوں کے بارے میں معلومات چھپانے کا الزام بھی عائد کیا۔ یائر نے سوال کیا کہ "کیا یہ غداری نہیں ہے؟".

یاد رہے کہ وزیر اعظم کے ترجمان نے سارہ نیتن یاہو کے بیان کی تردید کی تھی تاہم اسرائیلی میڈیا اسے نشر کرنے پر مصر رہا۔ میڈیا نے بعض حاضرین کی گواہی کا سہارا لیا جنہوں نے وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ سے یہ بات سنی تھی۔

بعض حلقوں کے نزدیک نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ جان بوجھ کر اس طرح کے الزامات پھیلا رہے ہیں تا کہ عوام کے سامنے اپنی اچھی تصویر پیش کر سکیں۔ ساتھ ہی یہ ظاہر کر سکیں کہ ان کے ساتھ غداری ہو رہی ہے۔ اس طرح نیتن یاہو مظلوم بن جائیں گے اور عوام کی جانب سے بھرپور تنقید کی لہر میں کمی آ سکے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنی اہلیہ سارہ کے ہمراہ

اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کے روز اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کو انٹرویو میں اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ بنیامین نیتن یاہو کو اس وقت متعدد اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران میں امریکا کے ساتھ ان کے تعلقات بڑی حد تک تناؤ اور اختلافات کا شکار رہے۔ یہاں تک کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے میں ٹال مٹول کر رہی ہے۔

اسی طرح ان کی حکومت کے اندر اختلافات کے نتیجے میں نو جون کو دو وزراء بینی گینٹس اور گیڈی ایزنکوت کے مستعفی ہونے ہونے پر اسرائیلی جنگی کابینہ تحلیل ہو گئی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں