رہائی کے بعد محمد ابو سلیمہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ
رہائی پانے والے الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹرکی اہل خانہ سے ملاقات کے جذباتی مناظر
اسرائیل نے چھ ماہ کی مسلسل حراست کے بعد غزہ کے الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلیمہ کو غزہ کے 54 دیگر قیدیوں سمیت اپنی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی وجہ سے رہا کر دیا۔
ڈاکٹر ابوسلیمہ غزہ کی پٹی میں اپنے خاندان کے پاس پہنچے تو انہیں دیکھ کر ہرآنکھ اشک بار تھی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ابوسلیمہ کی اپنے اہل خانہ سےملاقات کی ایک سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ملاقات کے جذباتی مناظر کودیکھا جا سکتا ہے۔ اس موقعے پر سب کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ ڈاکٹر ابوسلیمہ کی ماں اپنے بیٹے کو دیکھ اس کے ساتھ لپٹ گئی اور دونوں ماں بیٹے کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
ڈاکٹر ابو سلیمہ اپنے خاندان کے دوسرے لوگوں سے بھی گلے ملے جن میں ان کی بہنیں اور دیگر افراد دیکھے جا سکتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
رہائی کے بعد ڈاکٹر ابو سلیمہ نے اسرائیلی جیلوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں حالات انتہائی افسوسناک اور ناقابل بیان ہیں۔
تشدد کے دوران ان کی ایک انگلی توڑ دی گئی اور سرسے خون پھوٹ پڑا
محمد ابو سلامیہ کی بغیر کسی الزام یا مقدمے کے رہائی نے الشفاء ہسپتال کے حوالے سے اسرائیل کے دعووں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے، جس پر اس کی افواج نے حماس کے خلاف اپنی جنگ کے آغاز کے بعد سے دو بار چھاپے مارے۔
اس کے علاوہ ابو سلمیہ نے کہا کہ انہیں اور دیگر قیدیوں پر تشدد کیا گیا اور انہیں سخت حالات میں رکھا گیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ابو سلمیہ نے بتایا کہ مار پیٹ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ان کے ہاتھ کی انگلی توڑ دی۔ تشدد کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ان پر کتے چھوڑے اور ڈنڈوں سے مارا پیٹا۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر ابو سلمیہ نے کہا کہ مختلف سہولیات میں جہاں انہیں حراست میں لیا گیا تھا وہاں کے طبی عملے نے بھی تمام قوانین کی خلاف ورزی میں حصہ لیا۔ بعض زیر حراست افراد کے اعضاء ناقص طبی دیکھ بھال کی وجہ سے کاٹے گئے تھے۔
خیال رہے کہ شمالی غزہ کے الشفاء میڈیکل کمپلیکس پر اسرائیلی فوج نے گذشتہ برس نومبر میں پہلی بار چھاپہ مارا اور وہاں پرموجود درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان میں ڈاکٹر ابو سلیمہ سمیت طبی عملے کے کارکن بھی شامل تھے۔