لبنانی فوج کے سپاہی 5 جون 2024 کو لبنان کے عوکر میں امریکی سفارت خانے کے قریب علاقے کو محفوظ بناتے ہوئے اشارہ کر رہے ہیں۔

لبنانی فوج کو قطر کی طرف سے 20 ملین ڈالر کی اضافی امدادی رقم موصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی طرف سے لبنانی فوج کو 20 ملین ڈالر کی اضافی امداد موصول ہوگئی ہے۔ یہ خبر لبنان کے خبر رساں ادارے 'نیشنل نیوز ایجنسی' نے دی ہے۔

اضافی امدادی رقم کا مقصد لبنانی فوج کو اس مشکل اور چیلنج والے ماحول میں مدد دینا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج لبنانی سرحد اور لبنانی سرحدوں کے اندر تک حملے کر رہی ہے اور حزب اللہ کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں مشغول ہے۔

غزہ کی جنگ کے آغاز کے فوری بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔ جبکہ اسرائیل کا جارحانہ انداز بیروت اور دوسرے شہروں کو بھی وقتاً فوقتاً نشانہ بنا رہا ہے۔

واضح رہے لبنان کی فوج اسرائیل کے ساتھ کسی تصادم میں ملوث نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی طرف سے گاہے گاہے لبنانی فوج کی پوزیشنوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ماہ دسمبر میں ایک لبنانی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔

لبنان کے سیکیورٹی سے متعلق ذرائع نے خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتایا 'نئی قطری امداد اس پہلے امدادی پیکج کا ہی تسلسل ہے جس کا اعلان قطر نے 2022 میں 60 ملین ڈالر کے پیکج کے طور پر کیا تھا۔ یہ رقم لبنانی فوج کے سپاہیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے خرچ کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کیونکہ پچھلے برسوں میں لبنان کے معاشی حالات دگرگوں ہو گئے تھے اور تنخواہوں کی ادائیگی میں دقت پیش آرہی تھی۔'

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ 'لبنانی فوجیوں کو ہر مہینے 100 ڈالر کی ادائیگی کی جاتی ہے۔'

واضح رہے یہ رقم بہت ہی مشکل سے ایک جنریٹر خریدنے یا جنریٹر کی خدمات حاصل کرنے کے لیے استعمال ہو پاتی ہے۔ کیونکہ لبنان میں حکومت نے 22 گھنٹوں تک کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اس لیے قطر کی طرف سے پیش کردہ اس اضافی فوجی امداد سے لبنانی سپاہیوں کی تنخواہوں میں کچھ عبوری اضافہ کر کے یہ رقم دی جارہی ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ ضروریات پوری کر سکیں۔ خیال رہے بہت سارے فوجیوں کو اضافی نوکریاں کرنے کی ضرورت پڑی ہے اور بہت سے سپاہیوں نے فوج چھوڑنے کا ارادہ کر لیا تھا کہ اس تنخواہ سے ان کی گزر بسر نہیں ہوتی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں