یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر اسرائیلی حملے کے دو روز بعد بھی آگ بڑھک رہی
حدیدہ پر اسرائیلی حملے سے سٹورز، کرینوں اور بحری جہازوں کا نقصان
ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر میں بندرگاہ پر ایندھن کے ذخیرے کو آگ دو روز بعد بھی لگی دیکھی جا سکتی
ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں نے مغربی یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے زیر کنٹرول اہم سمندری گھاٹ حدیدہ کی بندرگاہ میں ایک پاور پلانٹ اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو نشانہ بنایا ۔ اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں اب تک دستیاب معلومات کے مطابق تیل کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی ہے۔ اسرائیل نے یہ حمل حوثیوں کی جانب سے تل ابیب پر کئے گئے پہلے حملے کے جواب میں کیا ہے۔
ذخیرہ کرنے والے سٹور
ہفتے کے روز اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے حدیدہ کی سٹریٹجک بندرگاہ پر حملہ کیا۔ اس سے ایک دن قبل حوثیوں نے تل ابیب میں ایک بم سے لدے ڈرون حملے کا دعویٰ کیا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب اسرائیل نے یمن پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
حدیدہ بندرگاہ کی سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر
حدیدہ کی بندرگاہ یمن میں ایندھن اور انسانی امداد کے لیے ایک اہم داخلی مقام ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق نصف سے زیادہ آبادی کا انحصار اسی انسانی امداد پر ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ حملے نے بندرگاہ میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حملے میں چھ افراد ہلاک اور 80 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے تمام افراد یمنی آئل کمپنی کے بندرگاہ کے ملازم تھے۔ ایک قریبی پاور سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تصویروں میں پورٹ میں تیل کے ٹینکوں کے جلنے کے نتیجے میں شدید شعلے اور سیاہ دھواں اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ ملبے نے فٹ پاتھ کو ڈھانپ رکھا ہے اور سامان کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ میکسار ٹیکنالوجیز کی طرف سے لی گئی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر میں بندرگاہ میں ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے علاقے میں شعلے دکھائے گئے۔ یہ آگ پیر کے روز بھی جل رہی تھی۔
حدیدہ بندرگاہ کی سیٹلائٹ سے لی گئی ایک تصویر
حدیدہ کی بندرگاہ کے ایک ملازم نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ یکے بعد دیگرے کئی ٹینک پھٹ گئے۔ بندرگاہ اپنی برتھ، کنٹینرز اور بحری جہازوں کے ساتھ برقرار ہے۔ ارتھ امیجنگ کمپنی پلانیٹ کی سیٹلائٹ تصاویر میں کم از کم 33 تباہ شدہ تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات دکھائی گئی ہیں۔
تباہ شدہ امدادی جہاز
ورلڈ فوڈ پروگرام نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی حملے کے دوران پروگرام سے تعلق رکھنے والے ایک بحری جہاز کو خوراک کا سامان لے جانے اور بندرگاہ میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولت پہنچانے والی کرین کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔ یمن میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر پیئر اونورا نے وضاحت کی کہ بحری جہاز اب بھی کام کر رہا ہے۔ لیکن امکان ہے کہ 780,000 لیٹر ایندھن کا سارا ذخیرہ تباہ ہو گیا ہے۔