زمین پر ایک پولیس اہلکار اور ایک پھانسی کے پھندے کا سائے نظر آ رہا ہے
عراق : دہشت گردی کے جرم میں سزا پانے والے 10 افراد کو پھانسی چڑھا دیا گیا
عراقی سکیورٹی اور صحت کے شعبے سے متعلق ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے عدالتوں سے سزا پانے والے دس مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
عراق میں حالیہ چند برسوں کے دوران سینکڑوں افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت یا سزائے عمر قید سنائی جا چکی ہے۔ تاہم انسانی حقوق گروپ ان افراد کو سزائیں سنانے کے عمل کو عاجلانہ قرار دیتے ہیں۔ کہ اس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
واضح رہے عراقی قانون کے تحت دہشت گردی کے جرم میں ملوث ہونے کی سزا موت ہے۔ البتہ پھانسی کی سزا کے لیے عدالتی حکمنامے پر صدر کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔
محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے بتایا ہیے کہ ان مجرمان کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت پھانسی دی گئی تھی اور محکمہ صحت نے ان کی لاشیں وصول کر لی ہیں۔ تاہم ان ذرائع نے معاملے کو حساس بتاتے ہوئے کہا ان ذرائع کی شناخت طاہر نہ کی جائے۔
الھوت ناصریہ کی ایک خوفناک جیل مانی جاتی ہے۔۔ عمومی خیال ہے جو ایک بار الحوت جیل میں گیا ، بس یوں سمجھیں کہ اسے وہیل مچھلی نے نگل لیا۔ وہ کبھی زندہ حالات میں اس جیل سے باہر نہیں آ سکتا ہے۔
انسانی حقوق گروپ اس جرم کو بنیاد بنا کر دی جانے والی سزاؤں کو عام طور پر تنقید کا نشانہ بناتےہیں کہ اس سے ملزمان کو صفائی کا موقع کم ملتا ہے۔ نیزعام طور پر ان ملزمان سے جرائم کا اعتراف بھی گرفتاری کے بعد تشدد کے نتیجے میں کرایا جاتا ہے۔
اس پھانسیوں کی کھیپ سے قبل 31 مئی کو آٹھ افراد کو عراق میں پھانسی کی سزا دی گئی ۔ اس سے پہلے مئی کے پہلے ہفتے اور اپریل کے آخری ہفتے میں بھی پھانسی پر چڑھایا گیا۔