حماس رہنما یحیی السنوار
السنوار جیل کے پہرے داروں کو دھمکی دیتے تھے، اسرائیلی جیلوں کے سابق ذمے دار کا انکشاف
غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم کے سربراہ یحیی السنوار اسرائیل کے لیے اس وقت مطلوب ترین شخصیت ہیں۔ تل ابیب حکومت انھیں سات اکتوبر کے حملوں کا خالق سمجھتی ہے۔
اسرائیل میں سیکورٹی جیلوں کے سابق ذمے دار یعقوب ایمانوئل نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ یحیی السنوار اپنی قید کے دوران میں جیل کے پہرے داروں کو دھمکی دے کر ڈراتے تھے۔
اسرائیلی اخبار معاریف کے مطابق ایمانوئل نے بتایا کہ السنوار پہرے داروں کو یہ کہہ کر دھمکایا کرتے تھے کہ "انتظار کرو، ایک روز میری رہائی ہو گی اور پھر میں تم سے پوچھ گچھ کروں گا"۔
ایمانوئل نے مزید بتایا کہ اس طرح کے جملے پہرے داروں میں خوف اور تشویش پیدا کرتے تھے۔
یعقوب ایمانوئل نے اسرائیلی جیلوں میں بہت زیادہ ہجوم کے مسئلے پر بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ "ہمیں اس بگڑتی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مزید جیلیں بنانے کی ضرورت ہے"۔
سیکورٹی جیلوں کے سابق ذمے دار نے باور کرایا کہ اس مشکل کے لیے بنیادی نوعیت کے حل کی ضرورت ہے تا کہ سنگین صورت حال کو روکا جا سکے اور حراست کے حالات بہتر بنائے جا سکیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
واضح رہے کہ یحیی السنوار کو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا اور قتل کے الزام میں 1989 میں چار مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں فسلطینی رہنما نے دو عشروں سے زیادہ کا وقت جیل میں گزارا۔
السنوار نے قید کے دوران عبرانی زبان سیکھی اور اسرائیلی فوج کی چالوں کو سمجھا۔
بعد ازاں 2011 میں السنوار کو رہا کر دیا گیا اور 2017 میں انھیں غزہ کی پٹی میں حماس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
یحیی السنوار 1962 میں خان یونس پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ وہ 1980 کی دہائی میں حماس تنظیم میں شامل ہوئے۔