فواد شکر

لبنان میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والا حزب اللہ کمانڈر فواد شکر کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل منگل کی شام اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایران نواز حزب اللہ گروپ کے ایک سینیر کمانڈر کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مقبوضہ شام کے گولان کےعلاقے "مجدل شمس پر حملے کے ذمہ دار رہ نما" کو نشانہ بنایا۔

پریس ذرائع نے بتایا کہ "بیروت کے مضافاتی علاقے میں نشانہ بنایا گیا کمانڈرمقتول عماد مغنیہ کے قد کاٹھ کا سینیر رہ نما ہے"۔ کچھ رپورٹس میں ا کی شناخت فواد شکر کے طور پر کی گئی ہے جو حسن نصر اللہ کے فوجی مشیر اور "حزب اللہ میں میزائل درستگی کے منصوبے کا ڈائریکٹر تھا"۔

فواد شکر جنوب میں حزب اللہ کے پہلے فوجی کمانڈر ہیں اور وہ امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ 30 سال سے زیادہ عرصے سے حزب اللہ میں کام کر رہے ہیں۔

واشنگٹن نے فواد شکر جسے الحاج محسن بھی کہا جاتا ہے کے بارے میں معلومات دینے پر 5 ملین ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

شکر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے عسکری امور کے سینیر مشیر ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

واشنگٹن کے مطابق "فواد شکر حزب اللہ کے اعلیٰ ترین عسکری ادارے، جہاد کونسل میں خدمات انجام دیتا ہے۔ شام میں شامی اپوزیشن فورسز کے خلاف حزب اللہ کی فوجی مہم میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور شامی حکومت کی افواج کی مدد کرتا رہا ہے"۔

واشنگٹن کے مطابق فواد شکر "حزب اللہ کے ہلاک ہونے والے رہ نما عماد مغنیہ کا قریبی ساتھی تھا"۔ شکر نے 23 اکتوبر 1983ء کو بیروت میں امریکی میرین بیرکوں پر بمباری میں "اہم کردار" ادا کیا جس کے نتیجے میں 241 امریکی فوجی ہلاک اور 128 زخمی ہوئے۔

10 ستمبر 2019ء کو امریکی محکمہ خارجہ نے بطور ترمیم شدہ ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت شکر کو خصوصی طور پر عالمی دہشت گرد نامزد کیا۔ اس سے قبل 21 جولائی 2015ء کو امریکی محکمہ خزانہ نے شکر کو ایگزیکٹو آرڈر 13582 کے تحت حزب اللہ کے لیے یا اس کی جانب سے کام کرنے کے لیے نامزد کیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں