Israeli soldiers take position as they enter the UNRWA headquarter where the military discovered tunnels underneath of the U.N. agency that the military says Hamas militants used to attack its forces during a ground operation in Gaza, Thursday, Feb. 8, 2024. The Israeli military says it has discovered tunnels underneath the main headquarters of the U.N. agency for Palestinian refugees in Gaza City, alleging that Hamas militants used the space as an electrical supply room. The unveiling of the tunnels marked the latest chapter in Israel's campaign against the embattled agency, which it accuses of collaborating with Hamas. (AP Photo/Ariel Schalit)

'انروا' کے نو کارکن اسرائیل پر سات اکتوبر حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ادارے 'انروا' کے کارکنوں کے بارے میں یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ ان میں سے نو ملازمین اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ڈپٹی ترجمان فرحان حق نے پیر کے روز بتائی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس کے حوالے سے معقول شواہد سامنے آئے ہیں کہ یہ ملازمین حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ادارے 'آئی او ایس' نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں، جس میں یہ ثابت ہوا ہے۔ خیال رہے 'انروا' کے صرف غزہ میں 13000 کارکن ہیں۔ ان میں سے 19 کے بارے تحقیقات کی ہیں۔ جن میں سے 9 کو ملوث قرار دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کیس میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ البتہ 9 کے حوالے سے کچھ شواہد ملے ہیں۔ تاہم یہ بہت زیادہ شواہد نہیں ہیں۔ جن 9 کے بارے میں کچھ شواہد ملے ہیں یہ تمام مرد اہلکار ہیں۔ تاہم ترجمان نے حملے میں ان کی مبینہ شرکت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

ترجمان نے کہا 'ہمارے لیے تو حملے میں کسی بھی طرح کی شمولیت بڑے دھوکے کی بات ہے۔'

اسرائیلی فوج کا اس رپورٹ کے بارے میں کہنا ہے 'تمہاری 'انروا' ایک نئی سطح کی ذلت کا سامنا کر رہی ہے۔ اب ضروری ہے کہ دنیا اس کا اصل چہرہ دیکھ لے۔'

واضح رہے اقوام متحدہ نے جنوری کے اوخر میں اسرائیل کی طرف سے 'انروا' کے کارکنوں پر اسرائیلی الزام کے بعد تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اسرائیل کا الزام 12 کارکنوں پر تھا۔بعد ازاں مارچ میں اسرائیل نے الزام لگایا کہ 'انروا' کے 450 کارکن سات اکتوبر حملے میں ملوث پائے گئے ہیں۔'

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں