ایران اور حزب اللہ
گذشتہ ماہ 31 جولائی کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے بعد سے ایران نواز ملیشیاؤں کے اندر اختلافات نے جگہ بنا لی۔
ایران نے اپنی سرزمین کی اس کھلی خلاف ورزی پر جوابی کارروائی اور اسرائیل سے انتقام کی دھمکی دی۔ تاہم اس کے باوجود تہران نے اس جواب میں انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے تا کہ اسے بھاری نقصان نہ اٹھانا پڑے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
البتہ اس محتاط رویے نے اُن ملیشیاؤں کے نیٹ ورک میں بعض دراڑیں پیدا کر دی ہیں جن کو ایران نے کئی برس کے عرصے میں جنم دے کر ان کی عسکری مدد کی۔ یہ ملیشیائیں عراق، یمن اور لبنان میں سرگرم ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ ملیشیا سات اکتوبر کو غزہ کی جنگ چھڑنے کے بعد سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ مڈبھیڑ میں مصروف ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایسے وقت میں جب تہران اسرائیل پر اس انداز سے ضرب لگانے کے طریقے پر غور کر رہا ہے جس سے کسی بڑی انتقامی کارروائی کو ہوا نہ ملے ... ایسا لگتا ہے کہ ایران نواز ملیشیاؤں کے مفادات ممکنہ طور پر معاملات کو پیچیدہ بنا دیں گے۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور شامی صدر بشار الاسد
بظاہر لگتا ہے کہ عراقی ملیشیائیں اور حوثیوں کی جماعت اسرائیل پر مزید حملوں کے لیے پُر جوش ہیں جب کہ تہران ان ملیشیاؤں کے ابلتے جذبات کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یورپی اور شامی سیکورٹی ذمے داران کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں۔ بالخصوص جب کہ دمشق کو کئی برس کی پابندیوں کے نتیجے میں اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔
دوسری جانب عراق میں تہران نواز ملیشیائیں اور یمن میں حوثی ملیشیا زیادہ دشمنانہ اسلوب اختیار کرنے کے لیے پُر جوش ہیں۔ وہ بھی نہ صرف اسرائیل کے خلاف بلکہ خطے میں تعینات امریکی فورسز اور دیگر مغربی مفادات کے خلاف بھی ... یہ چیز تہران کو پریشان کر رہی ہے۔
حوثی ملیشیا
حوثیوں کے ذمے داران اور یورپی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا امریکی جنگی بحری جہازوں اور اسرائیلی بندرگاہوں پر وسیع پیمانے پر حملوں کی خواہش مند ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف اسماعیل ہنیہ کے قتل کا انتقام لینا ہے بلکہ گذشتہ ماہ یمن میں الحدیدہ کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملے کا جواب دینا بھی ہے۔
اسی طرح عراقی ملیشیاؤں کا معاملہ بھی مختلف نہیں جو عراق اور شام میں امریکی اڈوں پر حملوں کے لیے کوشاں ہیں تا کہ امریکی افواج کو خطے سے نکالا جا سکے۔
جہاں تک حزب اللہ کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنے طور پر باور کرا چکی ہے کہ گذشتہ ماہ کے اواخر میں اسرائیل کے ہاتھوں اس کے سینئر رہنما فؤاد شکر کی ہلاکت کا جواب لا محالہ آئے گا۔
اس جذباتی اور غیر ذمے دارانہ رجحان کے مقابل ایران اور حزب اللہ زیادہ محتاط نظر آ رہے ہیں بالخصوص جب کہ ملک کو مشکل معاشی صورت حال کا سامنا ہے۔
بہت سے مبصرین کے نزدیک تہران نے اپنے مختلف ایجنڈوں پر عمل درآمد کے لیے ہمیشہ خطے میں اپنے ایجنٹ گروپوں پر اعتماد کیا ہے اور موجودہ وقت میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں ہے۔
یاد رہے کہ 31 جولائی کو اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت اور اس سے چند گھنٹے قبل فؤاد شکر کے قتل کے بعد سے خطے کو غیر معمولی نوعیت کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا ہے۔ اس دوران میں ایک جانب اسرائیل چوکنا ہے تو دوسری جانب ایران باریک بینی سے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔
ادھر امریکا نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ساتھ ہی واشنگٹن نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی جارحیت یا حملے کی صورت میں وہ اپنے حلیف اسرائیل کے دفاع کے لیے پُر عزم ہے۔ اس سلسلے میں خطے میں مزید امریکی بحری جنگی جہاز بھیج دیے گئے ہیں۔