لبنانی وزیر برائے اقتصادیات اور تجارت، امین سلام (رائٹرز سے محفوظ شدہ دستاویزات)
لبنان دنیا کے بدترین معاشی اور مالیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ لیرا 2019ء سے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کا 90 فیصد سے زیادہ کھو چکا ہے۔ لیرا کی ویلیو میں کمی کی بڑی وجہ زبردست سیاسی تناؤ ہے جو ہمیشہ جنگ جیسے خطرات کو جنم دیتا ہے اور معیشت کو تباہ کردیتا ہے
کشیدگی نہیں چاہتے
لبنان کے وزیر اقتصادیات امین سلام نے سوموار کے روز کہا کہ حکومت تقسیم کی حالت میں ہے اور بعض وزراء اجلاسوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے ’العربیہ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے حزب اللہ کی طرف سے کسی بھی طرح کی کشیدگی کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی صورت میں ملک کے پاس ادویات اور خوراک کا ذخیرہ صرف 4 ماہ کے لیے کافی ہے۔
بجلی کے بحران کے حوالے سے لبنانی وزیر نے اسے بدقسمتی قرار دیتے ہوئے اسے بدعنوانی اور بدانتظامی کا نتیجہ قرار دیا۔
وزیراقتصادیات کا یہ بیان اتوار کی صبح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد لبنان-اسرائیلی سرحد پر گزشتہ گھنٹوں کے دوران نسبتاً پرسکون رہنے کے درمیان آیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اگرچہ ایرانی حمایت یافتہ لبنانی حزب اللہ کے رہ نما حسن نصر اللہ نےکہا ہے کہ ان کے سب سے سینیر رہنما فواد شکر کے قتل کا جوابی کارروائی کا پہلا دورمکمل ہے۔اس پر اسرائیل میں الرٹ ہے۔
اتوار کو کوجنوبی لبنان کے علاقوں کو اسرائیلی بمباری سے نشانہ بنایا گیا۔ تل ابیب نے تصدیق کی ہے کہ شمال میں جھڑپیں ختم نہیں ہوئیں جس سے حزب اللہ پر نئے حملے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔