ایلنبی برج سے
اردن اور مغربی کنارے کے درمیان کنگ حسین بارڈر کراسنگ پر ہونے والے مسلح حملے کے بعد آج اتوار کو اسرائیل نے اردن کی جانب سے زمینی گزرگاہوں کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس حملے میں 3 اسرائیلی مارے گئے تھے۔
العربیہ کے نمائندے نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج کنگ حسین کراسنگ کے پل پر ٹرک ڈرائیوروں سے تفتیش کر رہی ہے۔ اس پل کو ’’اللنبي‘‘ پل بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام نے کراسنگ کی بندش کے بعد تمام مسافروں کو واپس کرنا شروع کر دیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسرائیلی فوج نے حملہ آور کی شناخت ظاہر کیے بغیر اسے مارنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اردن سے آنے والے ٹرک میں وادی اردن کے کراسنگ ایریا میں پہنچا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرائیور ٹرک سے باہر نکلا اور پل پر کام کرنے والی اسرائیلی سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کر دی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب مغربی کنارے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی دراندازی اور گرفتاریوں کے بعد غیر معمولی کشیدگی دیکھی جارہی ہے۔
سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں حالات بہت خراب ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی فورسز یا اسرائیلی آباد کاروں نے کم از کم 660 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔
اپنی نوعیت کا پہلا حملہ
اسرائیلی حکام کے مطابق اسی عرصے کے دوران علاقے میں فلسطینیوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 23 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ واضح رہے اللنبی (شاہ حسین ) سرحدی کراسنگ کو فلسطینی مسافر اردن پہنچنے اور پھر بیرون ملک سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ اکتوبر کے بعد سے اردن کے ساتھ سرحد پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔