یہ پارک سعودی عرب کا پہلا تھیم پارک ہوگا اور توقع ہے کہ 2025 میں اس کے دروازے کھل جائیں گے۔ (SPA)
سکس فلیگ قدیہ : سعودی عرب میں سیاحت کا منظر نامہ بدل رہا ہے
سعودی عرب تفریحی اور سیاحتی میدان میں ایک نمایاں تبدیلی سے گزر رہا ہے۔
سیاحت کے شعبے میں اہم سرمایہ کاری اور پرکشش مقامات کے لیے یہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق، ملک میں تفریحی مواقع کو فروغ دینے اور متنوع بنانے کے لیے حکومت نے 2016 میں جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی قائم کی۔جس نے کچھ بڑی عالمی تفریحی سرگرمیوں جیسے سعودی عربین گرینڈ پریکس، سعودی پرو لیگ اور گالف ٹورنامنٹ منعقد کئے۔
سعودی عرب 2025 میں اسپورٹس کے لیے افتتاحی اولمپک گیمز کی میزبانی بھی کرے گا۔ ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ 2022 میں اسپورٹس مارکیٹ کا حجم $1.88 بلین تھا جو 2030 تک 26.8 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو سے بڑھنے کی توقع ہے۔
ایسے ہی عالمی سطح کے اور منفرد تفریحی منصوبوں میں قدیہ تفریحی شہر بھی شامل ہے۔
سعودی عرب کے تفریحی منظر نامے کے بارے میں ہم نے قدیہ تفریحی شہر کے لیے لیڈ ڈیزائن کنسلٹنٹ ایک بڑی انجینئرنگ کمپنی کے سربراہ بریڈلی کاروک سے بات کی۔
اس کمپنی نے سکس فلیگ قدیہ تھیم پارک پروجیکٹ اور ملک کے دوسرے بڑے پروجیکٹس جیسے کہ مربع الجدید کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ"سب کی نظریں اس وقت سعودی عرب پر ہیں اور ایک اچھی وجہ سے۔''
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت نہ صرف ملک کے عالمی تفریحی پروفائل کو بڑھاتی ہے بلکہ روزگار کے خاطر خواہ مواقع بھی پیدا کرتی ہے اور گھریلو سیاحت کو بھی فروغ دیتی ہے۔"
بریڈلی کاروک
سعودی عرب کی تفریحی اور سیاحتی مارکیٹ کا حجم 2024 میں 2.55 بلین ڈالر ہے، جو 2029 تک 4.20 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔یہ اس مدت کے دوران 10.44 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو سے اضافہ ہوگا۔
سکس فلیگ قِدّیہ
یہ سعودی سیاحت کے لیے بڑا سنگ میل اور ایک اہم پراجیکٹ ہے جو تفریحی صنعت کو نئی جہت عطا کرے گا۔
یہ پارک سعودی عرب کا پہلا تھیم پارک ہوگا اور توقع ہے کہ 2025 میں اسے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
یہ پارک میگا منصوبے قدیہ تفریحی شہر کا حصہ ہے جو مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا تھیم پارک ہوگا۔ یہ 79 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔
پارک میں دنیا کی سب سے تیز، بلند ترین، اور طویل ترین رولر کوسٹر کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے اونچی ڈراپ ٹاور کی سواری بھی ہوگی۔
سکس فلیگ قدیہ۔
سکس فلیگ قدیہ تھیم پارک پروجیکٹ کے لیڈ ڈیزائن کنسلٹنٹ کے طور پر بریڈلی کاروک نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں"تھیم پارکس بنانے کا رجحان بڑھ رہا، جو کہ صارفین کی جانب سے بہت زیادہ دلچسی کے تحت ہے۔"
2023 میں عالمی تفریحی پارکس کی مارکیٹ 49.25 بلین ڈالر تھی اور 2032 تک 7.3 فیصد کے مرکب سالان شرح نمو کے ساتھ یہ تقریباً 93.15 بلین ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ "اس میدان میں مقابلہ کرنے کے لیے کچھ خاص درکار ہے، اور سکس فلیگ قدیہ سٹی اس خطے کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گا"۔
2016 میں سعودی نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام کے آغاز کے بعد سے 1.25 ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جا چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ "ان بڑے منصوبوں کی ترقی کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔"
انجینئرنگ کمپنی کے کام کے دائرہ کار میں زمین کے اندر ضروری بنیادی ڈھانچہ کے ساتھ ساتھ ساتھ ساتھ پائیداری ، ماحولیاتی عوامل، ڈیزائن اور منصوبے کا معیاری ہونا بھی شامل ہیں۔
"یہ ایک عالمی معیار کا تجربہ بنانے کے لیے لازمی ہے۔ ہم وژن 2030 کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں" بریڈلی کاروک نے کہا۔
کمپنی پراجیکٹ ڈیلیوری کو بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز اور ٹیکنالوجیز کا بھی استعمال کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایک باہمی ڈیلیوری ماڈل جو لوگوں، ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کو جوڑتا ہے۔
سیاحت اور معیشت
انہوں نے کہا کہ تفریحی صنعت کی توسیع سعودی عرب کے تنوع کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔
مملکت کے وزیر سیاحت احمد الخطیب کے مطابق، سعودی عرب میں 2024 کی پہلی ششماہی میں 60 ملین سیاح آئے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہے۔
وزیر کے مطابق، اس عرصے کے دوران سیاحوں کی طرف سے مجموعی طور پر 38 بلین ڈالر سے زائد آمدنی ہوئی۔
وزارت سیاحت نے اگست کی ایک رپورٹ میں کہا کہ صرف خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے سیاحوں نے سعودی عرب کے سفر کے دوران 3.9 بلین ڈالر سے زیادہ کے اخراجات کیے ہیں۔
اس کے علاوہ، تفریحی اختیارات کی وسیع پیش کش مقامی سیاحوں کو مقامی تفریحی سرگرمیوں پر زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔
مقامی سیاحوں نے گذشتہ سال 30.5 بلین ڈالر خرچ کیے، جس سے 2023 میں سیاحت کے کل اخراجات 68.14 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔
سعودی عرب 2030 تک سالانہ 150 ملین زائرین کا ہدف رکھتا ہے،یہ اس کی معیشت میں 15 فیصد حصہ ہوگا۔
" مواقع بہت وسیع ہیں، اور یہ مجھے اس ملک کے مستقبل کے لیے بہت مثبت بات لگتی ہے۔ یہ یہاں ہونے کے لیے ایک ناقابل یقین وقت ہے۔ ہم سب بہت خوش قسمت ہیں کہ اس پیشرفت کا حصہ بنرہے ہیں۔‘‘ کیورک نے کہا۔
کامکس، فلموں اور گیمز کی "ڈریگن بال" کائنات کے لیے وقف دنیا کا پہلا تھیم پارک سعودی عرب میں تعمیر کیا جائے گا۔ (ایکس)
ان کے مطابق، نئے تفریحی شہروں، تھیم پارکس، اور لگژری ریزورٹس کی تعمیر کے لیے بھی سپلائی چین، سفری سہولیات، خدمات، اور مہمان نوازی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
ایک ہی وقت میں اتنے سارے پروجیکٹس بنانے کے لیے مقامی اور عالمی دونوں طرح کے ٹیلنٹ کی ضرورت ہے۔ سعودی حکومت نے اپنے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے انفراسٹرکچر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرکے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کرکے مقامی افراد کے لیے مہارت حاصل کی ہے۔
سیاحوں کی آمد نے مہمان نوازی اور خدمات کے شعبوں میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔ 2023 میں، سعودی عرب میں 436,000 ملازمتوں کا اضافہ ہوا۔
مستقبل کے رجحانات
بریڈلی کاروک کے مطابق، مملکت میں عالمی معیار کے میگا پراجیکٹس کی ترقی آنے والے سالوں میں سعودی عرب میں تفریحی اور سیاحتی شعبے کو مکمل طور پر نئی شکل دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں جیسے ریڈ سی ، نیوم ، قدیہ اور مربع میں جدید ترین ٹیکنالوجی - جیسے ورچوئل اور اگمینٹڈ رئیلٹی کے امتزاج سے زائرین کے تجربات میں اضافہ ہوگا، جس سے وہ مزید عمیق اور انٹرایکٹو ہوں گے۔
انجینئرنگ کمپنی کے عالمی ڈائریکٹر نے نوٹ کیا کہ مزید برآں، پائیداری اور ماحولیاتی سیاحت پر زور منفرد اور ماحولیاتی طور پر باشعور سفری تجربات میں دلچسپی رکھنے والے عالمی سیاحوں کو راغب کرے گا۔
سعودی عرب میں ریڈ سی گلوبل کی ترقی کے تحت ایک منصوبے کا فضائی منظر۔ (RSG)
ایک اور اہم رجحان سماجی اصولوں کا لبرلائزیشن ہے "جس نے ثقافتی منظرنامے کو نئی شکل دینا شروع کر دی ہے۔"
مزید بین الاقوامی فنکاروں اور ایونٹس کے سعودی عرب جانے کے علاوہ، مقامی فلم، فنون اور موسیقی کی صنعتوں کی ترقی بھی ایک اہم کردار ادا کرے گی، جو سعودی ٹیلنٹ کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔
ای سپورٹس اور گیمنگ کا عروج تفریحی صنعت کو نئی شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا، جسے جدید ترین سہولیات اور انفراسٹرکچر کی مدد حاصل ہے۔
9 جولائی 2023 کو سعودی عرب کے بلیوارڈ ریاض میں کھیلوں اور گیمنگ فیسٹیول گیمرز 8 کے دوران مختلف ممالک کے کھلاڑی ویڈیو گیمز دیکھ رہے ہیں۔ (رائٹرز)
بریڈلی کاروک نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ "یہ نوجوان نسل میں ڈیجیٹل تفریح کے لیے ایک مرکز کے طور پر کام کرے گا۔"
اور نئے تفریحی پارکس، واٹر پارکس، اور فیملی پر مبنی ریزورٹس ہر عمر کے افراد کے لیے سرگرمیاں فراہم کریں گے۔ "