امریکہ، ایران اور اسرائیل

امریکہ نصراللہ کے قتل میں شامل ہے اور ہم ایک وسیع جنگ کی تیاری کر رہے ہیں:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر لبنانی حزب اللہ کے رہ نما حسن نصراللہ کے قتل میں ملوث ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ نصراللہ کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔

ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں جو کچھ کر رہا ہے اس کی وجہ سے وہ امن حاصل نہیں کرسکتا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ "خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خطرے کے پیش نظر ہم چوکس ہیں"۔ انہوں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطہ خطرناک اور انتہائی تشویشناک صورتحال سے گذر رہا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے نشاندہی کی کہ سلامتی کونسل نے ثابت کیا ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہے۔

ہفتے کے روز ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے جماعت کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک پرتشدد اسرائیلی حملے میں اپنے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ ایران نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اقوام متحدہ میں ایرانی ایلچی امیر سعید ایروانی نے 15 رکنی سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ "ایرانی جمہوریہ اپنے سفارتی ہیڈ کوارٹر اور نمائندوں پر کسی بھی حملے کے خلاف سختی سے خبردار کرتا ہے جو کہ سفارتی اور ناقابلِ تسخیریت کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ "ایران اپنے اہم قومی اور سلامتی کے مفادات کے دفاع کے لیے تمام اقدامات اٹھانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے موروثی حقوق کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کےمطابق ایرانی سفیرنے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ "اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں اور خطے کو ہمہ گیر جنگ میں جانے سے روکا جائے"۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں