اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی 17 دسمبر 2019 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پہلے عالمی پناہ گزین فورم کے بعد ایک نیوز کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)
اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے سربراہ کی لبنان میں 'خوفناک بحران' کی مذمت
اسرائیل نے ہسپتالوں، ایمبولینس اور طبی عملے کو بھی نشانہ بنایا ہے
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے سربراہ ہفتے کے روز اُن لاکھوں لبنانیوں سے "اظہارِ یکجہتی" کے لیے لبنان کے دورے پر پہنچے
جو اسرائیلی بمباری سے متأثر ہوئے ہیں اور انہیں بین الاقوامی حمایت کی ضرورت ہے۔
یو این ایچ سی آر کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر کہا، "لبنان کو ایک خوفناک بحران کا سامنا ہے" کیونکہ "اسرائیلی فضائی حملوں سے لاکھوں افراد بے سہارا یا بے گھر ہو گئے ہیں۔"
انہوں نے کہا، "میں یہاں متأثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، انسانی ہمدردی کی کوششوں کی حمایت اور مزید بین الاقوامی مدد کی درخواست کرنے کے لیے آیا ہوں۔"
ہفتے کے روز ہی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار عمران رضا نے صحت کی سہولیات پر حملوں کے اثرات سے خبردار کیا جن کے بارے میں اسرائیل کہتا ہے کہ یہ حزب اللہ کے زیرِ استعمال ہیں۔
رضا نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، "گذشتہ دنوں کے دوران ہم لبنان میں صحت کی سہولیات کے خلاف حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھ رہے ہیں۔"
انہوں نے خبردار کیا، "صحت کے کارکنان اپنی جانوں کے ساتھ سب سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔"
ایک روز قبل لبنان کے کم از کم چار ہسپتالوں نے جاری اسرائیلی بمباری کے دوران اپنی خدمات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
حزب اللہ سے وابستہ اسلامک ہیلتھ کمیٹی کے امدادی کارکنان نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 11 اہلکار ہلاک ہو گئے۔
جنوبی لبنان میں اسلامی صحت کمیٹی کے زیرِ انتظام چلنے والے صلاح غندور ہسپتال نے کہا کہ اس کے عملے کے نو ارکان جمعہ کے حملوں میں زخمی ہوئے جب اسے اسرائیل کی جانب سے انخلا کی وارننگ موصول ہوئی۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اس کی فضائیہ نے "حزب اللہ کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جو صلاح غندور ہسپتال سے متصل مسجد میں واقع ایک کمانڈ سینٹر کے اندر سے کارروائی کر رہے تھے۔"
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان افیخائی ادرعی نے جمعہ کو ایکس پر خبردار کیا، "حالیہ دنوں میں ہم نے لڑائی کے لیے کارندوں اور سامان لے جانے کی غرض سے حزب اللہ کے ارکان کے امدادی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مشاہدہ کیا ہے۔"
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، "اسلامک ہیلتھ کمیٹی کی ایمبولینسوں کو حزب اللہ دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ کسی بھی گاڑی کے مسلح کارندوں کے استعمال میں آنے کا ثبوت ملا تو مناسب اقدامات کا نشانہ بنایا جائے گا۔"
جمعرات کے روز لبنان کے وزیرِ صحت فراس ابیاد نے کہا، اکتوبر میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے 97 امدادی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں جن میں صرف تین دنوں میں اسرائیلی فائرنگ سے ہلاک شدہ 40 سے زیادہ طبی عملے اور آگ بجھانے والے کارکنان بھی شامل ہیں۔
جمعہ کے روز عالمی ادارۂ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے ایکس پر کہا کہ ایک ہوائی جہاز 30 ٹن طبی سامان کے ساتھ بیروت ہوائی اڈے پر اترا۔ ستمبر کے آخر میں اسرائیل-حزب اللہ کے درمیان کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے یہ اس طرح کی پہلی ترسیل تھی۔
لبنان کی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز کہا کہ اسے مصر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ سے طبی امداد ملی ہے۔