ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی

جنگ سے ڈرتے نہیں مگر جنگ چاہتے بھی نہیں ہیں : تہران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقجی نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ "ان کا ملک اسرائیل کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا زیادہ بھرپور انداز سے جواب دے گا ... ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے ، یہ طبیعیات کا قانون ہے"۔

اطالوی چینلTg3 کے ساتھ گفتگو میں عراقجی نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک جنگ سے خوف زدہ نہیں مگر وہ جنگ چاہتا بھی نہیں ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ایرانی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں کشیدگی روکنے کے لیے یورپ زیادہ فعال کر دار ادا کرے۔ عراقجی کا کہنا تھا کہ "یورپیوں کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کافی اختیارات نہیں ہیں ، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے"۔

بعض اسرائیلی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ ایران پر حملے میں تیل اور بجلی کی تنصیبات کے علاوہ جوہری تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں ، اگرچہ واشنگٹن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مخالف ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بعض ذرائع نے اس سے آگے کی توقعات ظاہر کی ہیں جن میں تہران میں ایرانی صدارتی کمپلیکس اور رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے علاوہ پاسداران انقلاب کے صدر دفتر کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے بتائی۔

دوسری جانب تہران یکم اکتوبر کے حملے سے زیادہ بھرپور رد عمل کی دھمکی دے چکا ہے۔ واضح رہے کہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس سے منسوب ایک چینل نے اتوار کے روز ان حساس اسرائیلی مقامات کا نقشہ نشر کیا تھا جن کو ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں