10 ستمبر 2024 کو شمالی غزہ کی پٹی کے جبالیہ میں اسرائیل اور حماس کے تنازع کے درمیان ایک فلسطینی بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ (رائٹرز)

غزہ : بچوں کے لیے پولیو ویکیسن کا پہلا مرحلہ مکمل

14 اکتوبر سے دوسرا مرحلہ شروع کرنے پراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف نے ایک بار پھر اتفاق کیا ہے کہ جنگ زدہ غزہ جہاں اب تک سب سے زیادہ بچوں کو ہی قتل کیا گیا ہے بچوں کو ٹانگوں کی معذوری سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیو ویکسین کا اگلا مرحلہ 14 اکتوبر سے شروع کیا جائے۔ تاکہ انسانی ہمدردی کا یہ سلسلہ چلتا رہا

واضح رہے یونیسیف اور اسرائیل نے یہ اتفاق انسانی بنیادوں پر کیا ہے۔ جس کے تحت انسانی بنیادوں پر اب تک غزہ مین زندہ رہ جانے والے بچوں میں سےدس سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچانے کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔

یاد رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ کا دوسرا سال شروع ہو چکا ہے اور اب تک اس جنگ میں غزہ کے رہنے والے کم از کم 42065 کی تعداد میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کر لیے گئے ہیں۔ اتفاق سے ان قتل کیے گئے فلسطینیوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔

اسی وجہ سے دنیا بھر میں نوجوانی کی عمر تک کے لوگ اس جنگ کی بندش کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ انسانی جانوں اور بطور خاص بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ تاہم اسرائیل نے یونیسیف کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ اسرائیلی بچوں کی جان بخشی نہیں کی جا سکتی تو انہیں ٹانگوں کا روگ لگنے سے بچانے میں تعاون کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف کی چیف کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ کی پٹی میں 10 سال سے کم عمر کے 590,000 بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے دوسرے مرحلے کا آغاز 14 اکتوبرسے شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ایک بیان میں جنگ زدہ غزہ کے حوالے سے کہا 'علاقے کے لحاظ سے انسانی ہمدردی کے وقفوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ ان وقفوں کا تمام فریق احترام کریں۔ کیونکہ سبھوں کے تعاون کے بغیر، بچوں کو ٹیکے لگانا ممکن نہیں ہو سکے گا۔'

یاد رہے غزہ میں بچوں کی ٹانگوں کو لنگڑے پن اور ٹیڑھی ہونے سے بچانے کے لیے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کا پہلا مرحلہ یکم ستمبر سے شروع ہوا مکمل ہو گیا تھا 10 سال سے کم عمر کے 90 فیصد بچوں کو قطرے پلائے گئے ہیں۔ تاہم اسرائیلی بمباری بھی اپنے طے شدہ منصوبوں اور شیڈول کے مطابق وقفوں سے جاری رہی۔

اس بمباری سے بلا شبہ سینکڑوں فلسطینی اپنے بچوں سمیت مرتے رہے۔ تاہم پولیو مہم بھی جاری رہی۔ پولیو کے قطرے پلانے کی یہ مہم اس وقت انسانی بنیادوں اور بچوں سے ہمدردی کے جذبے تحت شروع کی گئی جب 25 سال کے عرصے کے بعد ایک بچے کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس کے جسم میں پولیو وائرس کے اثرات ہیں۔

اب اس کامیاب مہم کا دوسرا مرحلہ 14 اکتوبر سے شروع کیا جائے گا۔ تاکہ فلسطینی بچوں کی جانیں نہیں تو کم از کم ٹانگیں بچ جائیں اور وہ زندگی میں معذوری نہ دیکھیں۔ غزہ میں جاری پولیو مہم کوبھی کسی بندش کا شکار نہ ہونے دیے جانے پر بھی اتفاق ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں