غزہ میں ہسپتالوں پر بم باری پر تنقید ، اسرائیلی سفیر جرمن رکن پارلیمنٹ پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چند دونوں کے دوران میں جرمن حلقوں کو ملک میں اسرائیلی سفیر اور خاتون رکن پارلیمینٹ کے درمیان غزہ کے حوالے سے بحث نے مصروف رکھا۔

اس کہانی کا آغاز اس سقت ہوا جب جرمن پارلیمینٹ کی خاتون رکن ایدان اوزوجو نے گذشتہ بدھ کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی اسٹوری پر ایک تصویر پوسٹ کی۔ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ سے متعلق یہ تصویر انھوں نے "Jewish Voice for Peace" نامی ویب سائٹ سے لے کر شیئر کی تھی۔

پوسٹ میں غزہ کی پٹی میں ایک ہسپتال پر اسرایئلی حملے کو موضوع بنایا گیا تھا۔ تصویر میں جلی ہوئی چیزیں دکھائی دے رہی ہیں اور ساتھ عبارت تحریر ہے "یہ ہے صہیونیت"، اس میں اسرائیل کی جانب سے ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کی طرف اشارہ کیا گیا۔

تاہم اس پوسٹ کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ اس نے جرمن حلقوں میں وسیع پیمانے پر تنقید کا دروازہ کھول دیا۔ یہودیوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ نے خاتون رکن پارلیمنٹ کی اس "غلطی" پر بات کی۔ ان کے علاوہ ڈیموکریٹک کرسچیئن پارٹی کے سکریٹری جنرل نے اوزوجو پر یہود مخالف افکار پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر ڈالا۔

ایک ہلچل کے بعد آخر کار اوزوجو معذرت پر مجوبر ہو گئیں۔ انھوں نے جمعے کے روز جرمن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں بنڈس ٹاگ (Bundestag) کے اجلاس کے بعد کہا کہ "اس اسٹوری کو انسٹاگرام پر شیئر کرنا میری غلطی تھی، میں معافی چاہتی ہوں"۔

خاتون رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ اس پوسٹ کا مقصد معاشرے میں جوڑ پیدا کرنا تھا تاہم "اس کا اثر مکمل طور پر بر خلاف رہا، میں خود کو اس سے سبکدوش کرتی ہوں"۔

تاہم اوزوجو کی معذرت ان کے لیے صفائی کا ذریعہ نہ بن سکی اور برلن میں اسرائیلی سفیر رون بروسر نے اس پوسٹ کے حوالے سے وضاحت طلب کر لی۔

بروسر نے جرمن اخبار "بیلڈ" کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "محترمہ اوزوجو معاشرے میں جوڑ کے لیے پل بنانا چاہتی ہیں تاہم انٹرنیٹ پر وہ واحد یہودی ریاست کے خلاف جذبات بھڑکا رہی ہیں ... بہتر ہو گا کہ وہ ہمیں کھل کر بتائیں کہ جب وہ صہیونیت کے بارے میں بات کرتی ہیں تو ان کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے .. اپنی بار بار کی غلطیوں کے بعد اب ان کو اپنے موقف کا وضاحت سے اعلان کرنا ہو گا"۔

واضح رہے کہ "صہیونی تحریک" کا ظہور انیس ویں صدی میں ہو اتھا۔ اس کا مقصد یہودیوں کے لیے ایک قومی ریاست کا قیام تھا یہاں تک کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں