شمالی غزہ کی پٹی کے جبالیا میں کمال عدوان ہسپتال کے ارد گرد کے علاقے سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے بعد فلسطینی 26 اکتوبر 2024 کو نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (رائٹرز)
ثالثین غزہ کے لیے 'ایک ماہ سے کم' جنگ بندی کی تجویز پیش کریں گے: ذرائع
بائیڈن جاتے جاتے جنگ بندی میں کامیابی کے خواہاں
غزہ میں جنگ بندی کے خواہاں ثالثیں حماس کو ایک ماہ سے کم مدت کے لیے جنگ بندی کی تجویز دینے والے ہیں، یہ بات اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بدھ کو اے ایف پی کو بتائی۔
دوحہ میں پیر کو ختم ہو جانے والی گفتگو میں موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیہ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر بل برنز اور قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آلِ ثانی شامل تھے۔
ذریعے نے گفتگو کی حساسیت کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا، ثالثین نے "ایک ماہ سے بھی کم" کی "قلیل مدتی" جنگ بندی پر توجہ مرکوز کی۔
ذریعے نے مزید کہا کہ تجویز میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کا اسرائیلی یرغمالیوں سے تبادلہ اور غزہ کے لیے امداد میں اضافہ شامل ہے۔
انہوں نے کہا، "امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر ایک مختصر مدت کے معاہدہ طے ہو سکتا ہے تو یہ ایک زیادہ مستقل معاہدے کا باعث بن سکتا ہے۔"
امریکی صدر جو بائیڈن کے دورِ حکوت کے اختتام کے قریب تعطل کو توڑنے کے لیے واشنگٹن اور دوحہ نے گذشتہ ہفتے نئے امکانات کی تلاش میں ذاتی طور پر تازہ مذاکرات کا اعلان کیا۔
دوحہ مذاکرات کا مقصد ایک تیز نتیجہ حاصل کرنا تھا جو پانچ نومبر کے امریکی انتخابات کے ساتھ بائیڈن کی انتظامیہ کے گھٹتے ہوئے اثر و رسوخ کے باوجود ان کی میراث کو فروغ دے سکے۔
یہ تبصرے دو روزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کے بدلے قیدیوں کے محدود تبادلے کی مصری تجویز کے بعد کے ہیں جس کے بارے میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا تھا کہ یہ مستقل جنگ بندی کا باعث بن سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بعد میں کہا کہ انہیں مصری تجویز موصول نہیں ہوئی لیکن اگر یہ پیش کی جاتی تو وہ اسے "فوراً قبول کر لیتے"۔
اس ماہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی ہلاکت سے جنگ بندی مذاکرات کو نئی زندگی ملنے کی امید پیدا ہوئی تھی۔
مئی میں بائیڈن کے پیش کردہ جنگ بندی کے ابتدائی منصوبے میں تھوری سی تبدیلی کی بنیاد پر مصر اور قطر میں اگست میں ذاتی طور پر مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گئے۔
اس منصوبے کے تحت ابتدائی چھ ہفتوں کے لیے لڑائی کو منجمد کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب کہ اسرائیلی یرغمالیوں کا فلسطینی قیدیوں سے تبادلہ کیا جاتا اور انسانی امداد غزہ میں داخل ہوتی۔