Untitled
یرغمالیوں کی رہائی کےلیے قائم فورم کانیتن یاہوکےدفترسےخفیہ رازوں کےافشاکی تحقیقات کامطالبہ
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے ریاستی و حکومتی راز چرائے جانے کے واقعے کی تحقیقات کرانے کا یرغمالیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والے فورم نے مطالبہ کیا ہے۔
یرغمالیوں کے اہل خاندان اور دوستوں کے بنائے گئے اس مشترکہ فورم کی طرف سے یہ مطالبہ پیر کے روز سامنے آیا ہے۔
اس مطالبے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے انتہائی حساس معلومات کا چرایا جانا سخت خطرناک ہے۔ یاد رہے ان خفیہ رازوں کے افشا کیے جانے کا الزام نیتن یاہو کے سابق معاون پر لگایا گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ ان رازوں کے افشا سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے سرکاری رازوں کے افشا کو نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی نااہلی قرار دیا ہے۔
ادھر اتوار کے روز ایک اسرائیلی عدالت نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے سابق معاون ایلیزر فیلڈسٹین کے بارے میں بتایا ہے کہ اس معاون کو اسرائیلی سرکاری راز کا افشا کرنے کے الزام کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ تین دوسرے افراد بھی حراست میں لیے گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان چاروں افراد پر اسرائیلی رازوں کو اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے اڑا لے جانے کا الزام ہے۔
اس سنگین نوعیت کے واقعے کے بعد اسرائیلی اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ اتنے بڑے واقعے میں کہیں نیتن یاہو خود بھی تو ملوث نہیں ہیں۔ اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں اور دوستوں کے فورم نے اسی سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بنائے گئے فورم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسی کارروائی جو خصوصاً جنگ کے دوران ہوئی ہے انتہائی خطرناک ہے اور سرکاری رازوں کو افشا کرنے کی یہ کارروائی یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں اور امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کے نتیجے میں یہ خطرہ بھی بڑھ جائے گا کہ یرغمالی حماس کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہو جائیں۔
واضح رہے یہ فورم ان 97 یرغمالیوں کے خاندانوں اور دوستوں پر مشتمل ہے۔ جو 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں حماس کی قید میں ہیں اور اسرائیل اپنی تقریباً 13 ماہ کی بدترین اور طویل ترین جنگ کے باجود انہیں چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔
البتہ اسرائیلی فوج کا یہ کہنا ہے کہ ان میں سے 34 یرغمالی اب زندہ نہیں رہے ہیں۔ فورم کے مطابق یہ بات اور زیادہ قابل تشویش ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ ان کی ٹیم میں ایسے افراد موجود رہے ہیں جو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈز میں ملوث ہیں ۔
فورم کے مطابق اس سے زیادہ کوئی اخلاقی طور پر گری ہوئی بات نہیں ہو سکتی۔ یہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کے رشتے کے لیے سخت دھچکے کی بات ہے۔
جبکہ نیتن یاہو کی حکومت پر تنقید کرنے والے ایک طویل عرصے سے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ اسرائیلی حکومت جنگ بندی کے لیے مذاکرات کو جان بوجھ کر لٹکا اور لمبا کر رہی ہے۔ تاکہ وہ اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کو رام کر سکے۔
اسرائیل کی اندرونی سلامتی سے متعلق خفیہ ایجنسی شین بیٹ اور اسرائیلی فوج نے ماہ ستمبر میں خفیہ رازوں کی اس چوری اور افشا کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ اس امر کا انکشاف برطانوی ہفت روزہ 'دی جیوش کرونیکل' اور جرمنی کے اخبار 'ٹیبلائڈ بلڈ' نے اسرائیلی فوج کی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے شائع کیا تھا۔
ایک اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ فوجی دستاویزات اس بات کو ظاہر کر رہی تھیں کہ یحییٰ سنوار اور یرغمالیوں کو مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقے فلاڈیلفیا کے راستے مصر سمگل کیا جانا تھا۔
جبکہ دوسرے نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ایک دفتری یاداشت میں کہا گیا تھا کہ حماس کی قیادت نے یحییٰ سنوار کی حکمت عملی کے تحت مذاکرات کو روکنا تھا۔ تاکہ یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر ہو سکے۔
اسرائیلی عدالت نے اس سرکاری دستاویز کے اس طرح افشا ہونے پر کہا ہے کہ اس سے ملکی سلامتی کو سخت خطرہ ہو سکتا ہے۔