1
لبنان: اسرائیلی بمباری کے بعد ملبے کے نیچے 14 گھنٹے رہنے والا دو سالہ بچہ
لبنان میں ہونے والی اسرائیلی بمباری کے بعد 14 گھٹنوں تک ملبے کے نیچے رہنے والا بچہ جس کا پورا خاندان اسرائیلی بمباری میں قتل ہو چکا ہے۔ امدادی کارکنوں کو اس 2 سالہ بچے علی خلیفہ کے بچنے کی امید نہیں تھی۔ بچے کے والد کے چچا حسین خلیفہ نے کہا ' ہسپتال کے بستر ر علی اپنے خاندان کا زندہ بچ جانے والا واحد بچہ ہے۔
امدادی کارکنوں کو دو سالہ علی خلیفہ کو زندہ تلاش کرنے کی امید نہیں تھی۔ ان کے والد کے چچا حسین خلیفہ نے کہا علی اپنے خاندان کا اکیلا زندہ بچ جانے والا بچہ ہے۔ ہسپتال میں اس کا سانس لینا ہمارے لیے بہت بڑی بات تھی۔
اسرائیلی فوج کی 29 ستمبر کو کی جانے والی بمباری سے 2 سالہ علی خلیفہ کے والدین، بہن بھائی اور دادی سب لوگ قتل ہوگئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق سیڈون شہر سے تقریبا 15 کلومیٹر جنوب میں سرافند پر ہونے والے حملے نے اپارٹمنٹ کی بلڈنگ کو تباہ کر دیا۔ اس بمباری کے نتیجے میں 15 لبنانی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
سیڈون شہر کے ہسپتال میں 45 سالہ حسین خلیفہ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا 'امدادی کارکنوں کو ملبے کے نیچے کسی کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ لیکن پھر اچانک بلڈوزر کے بیلچے میں علی نظر آیا۔ ہمیں لگا کہ وہ بھی مر چکا ہے لیکن اس نے ملبے کے نیچے 14 گھنٹے رہنے کے بعد بمشکل سانس لی۔ '
وزارت صحت لبنان کے مطابق 23 ستمبر سے اب تک اسرائیلی بمباری سے 2600 سے زائد افراد قتل ہوچکے ہیں۔
علی کو ہسپتال لے جایا گیا اور اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اب تک علی کومے میں ہے۔ اب اسے بیروت کے ایک طبی مرکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں اس کو مصنوعی ہاتھ لگایا جائے گا۔
چچا نے کہا 'بمباری سے پہلے علی اپنے گھر میں صوفہ پر سو رہا تھا اور ابھی بھی وہ سو رہا ہے۔ ڈاکٹرز کوشش کر رہے ہیں کہ جلد سے جلد اس کی سرجری مکمل کر لیں۔ '
چچا نے مزید بتایا کہ اس کی 23 سالہ بھانجی بھی اس دنیا میں تنہا رہ گئی ہے۔ وہ دو گھنٹے تک ملبے کے نیچے دبی رہی۔ ہسپتال میں اسے معلوم ہوا کہ اس کے والدین، شوہر اور تین بچے جن کی عمریں 3 سے 7 سال کے درمیان تھیں سب اسرائیلی بمباری سے قتل ہوگئے ہیں۔ ہسپتال میں موجود زینب کی زخمی آنکھ کا علاج ہونا ابھی باقی ہے۔
حسین خلیفہ نے بتایا کہ اسے زینب سے معلوم ہوا کہ زینب نے اپنے گھروالوں پر برسنے والے اسرائیلی میزائلوں کی آوازیں نہیں سنی تھیں۔ بلکہ صرف اندھیرا دیکھا اور گھر والوں کی چیخیں سنی تھیں۔
زینب کے معالج ڈاکٹر علی علاء الدین نے کہا ' زینب کے جسمانی زخم اس کے نفسیاتی زخموں سے کہیں زیادہ ہیں۔ زینب کی 30 سالہ بہن فاطمہ کے بھی پورے جسم پر چوٹیں آئیں۔ پاؤں میں فریکچر ہوا۔ حتیٰ کہ پھیپڑوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ '