عنصر من الفصائل المسلحة السورية (رويترز)
شامی اپوزیشن گروپ حمص شہر پر حملے کی راہ ہموار کرنے میں مصروف
شام میں مسلح اپوزیشن گروپوں کے اس اعلان کے ساتھ کہ وہ حمص کے وسطی حصے کے قریب پہنچ گئے ہیں، شہر کی فضاؤں میں ڈرون طیاروں کے جھنڈ دیکھے گئے۔
العربیہ کے ذرائع نے آج ہفتے کے روز بتایا کہ اپوزیشن گروپ "شاہین" ڈرون طیاروں کے ذریعے شہر پر حملے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
تحریر الشام تنظیم نے گذشتہ شام ٹیلی گرام پر اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ "اس کی فورسز نے حمص شہر کے کنارے آخری گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے"۔ اس سے قبل اپوزیشن گروپوں نے حمص صوبے کے شمالی دیہی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ان گروپوں نے شامی فوج کے عناصر پر زور دیا ہے کہ وہ منحرف ہو جائیں اس لیے کہ یہ ان کے پاس آخری موقع ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اپوزیشن گروپوں کے حمص پر قبضے کا مقصد دار الحکومت دمشق کو شامی ساحل سے منقطع کرنا ہے جہاں علوی فرقے نے قدم جما رکھے ہیں۔ شامی صدر بشار الاسد کا تعلق اسی فرقے سے ہے۔ یہاں روس کے بحری اور فضائی اڈے بھی واقع ہیں۔
اس وجہ سے بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ لڑائی آسان نہیں ہو گی بلکہ وہ اسے حقیقی معرکہ قرار دے رہے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ادھر ایک شامی فوجی ذریعے نے باور کرایا ہے کہ حمص کے شمال سے اپوزیشن گروپوں کی کسی بھی پیش قدمی کو ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی فورس کا سامنا ہو گا۔ یہ فورس وہاں سرکاری فوج کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے تعینات ہے۔
اس سے قبل اپوزیشن گروپوں نے شام کے جنوب میں درعا اور السویداء کا کنٹرول سنبھال لیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دوسرہ جانب کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) نے دیر الزور صوبے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ملک کے مشرقی حصے میں واقع صحائی علاقوں میں یہ بشار حکومت کی توجہ کا مرکز ہے۔ اسی طرح ایس ڈی ایف نے جمعے کے روز عراق کے ساتھ سرحد پر البوکمال گزر گاہ پر بھی قبضہ کر لیا۔
امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی کے مطابق داعش تنظیم نے شام کے مشرق میں بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ بات تشویش کا باعث ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
شامی اپوزیشن کے مسلح گروپوں نے گذشتہ ہفتے ادلب سے اچانک حملے کی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ چند روز میں انھوں نے پورے حلب شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا اس کے بعد وہ حماہ شہر اور حمص کے دیہی علاقے میں بھی داخل ہو گئے۔
بعض رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اپوزیشن گروپوں نے شام میں 20 ہزار مربع کلو میٹر کے رقبے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شام کا مجموعی رقبہ 1.85 لاکھ مربع کلو میٹر ہے۔