سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن برحان
خطے میں شراکت داروں کے ساتھ علاقائی مفاہمت کی راہ پر گامزن ہیں: سعودی وزیر خارجہ
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ علاقائی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کے رہنما اصول نے امن کے لیے ایک ایسی جگہ پیدا کی ہے جو چیلنجوں پر چھائی ہوئی ہے اور تخریب کاروں کی کارروائیوں کو ناکام بنا رہی ہے۔ سعودی عرب خطے کو تعمیر کرنے اور اس کے عوام ایک بہتر مستقبل کا خواہش ہے۔
انہوں نے 20 ویں علاقائی سلامتی فورم ’’منامہ ڈائیلاگ 2024 ‘‘ کے پہلے دن کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ سعودی عرب اور اس کے بھائیوں نے ہمیشہ امن قائم کرنے اور بحرانوں پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ سیاسی عزم کا اظہار کیا ہے۔ ریاض خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ علاقائی مفاہمت کی راہ پر گامزن ہونا، تعاون کے رشتوں کو مضبوط کرنا اور بات چیت کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ تاہم بحرانوں اور جنگوں نے خطہ کو ایک خطرناک موڑ کی طرف موڑ دیا ہے جس کے لیے مشترکہ اور موثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا راستے کو درست کریں اور امن اور بقائے باہمی کی راہ پر لوٹ آئیں۔
سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امید کی گئی حقیقت کا حصول ممکن ہے لیکن اس کے لیے مشترکہ کوششوں اور عزم کی ضرورت ہے۔ فیصلہ سازی میں سیاسی ارادے اور جرأت کی بھی ضرورت ہے جو فوری مفادات اور تنگ نظریوں سے بالاتر ہو۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ غزہ میں جنگ کا جاری رہنا اور اس کی علاقائی توسیع بین الاقوامی سلامتی کے نظام کو کمزور کر رہی ہے۔ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی ساکھ کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کو فوری طور پر روکنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے۔ انسانی امداد کے داخلے پر عائد تمام پابندیاں ہٹائے۔ یرغمالیوں اور زیر حراست افراد کو رہا کرائے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری اپنے قوانین اور اداروں کی ساکھ کو باقی رکھنے میں میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے اپنا ہاتھ سعودی عرب اور ان علاقائی ممالک کے ہاتھ میں دے دینا چاہیے جو امن کے لیے اور الفاظ کو اعمال کے قالب میں ڈھالنے اور زمین پر دو ریاستی حل کو مجسم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔